read.cash Log in
@Waheed42

شاعری

تیرے دل سے جو اتر جائیں گے اپنے ہونے سے مکر جائیں گے اب قفس کا یہ تکلف کیسا اُڑ بھی جائیں تو کدھر جائیں گے آنکھ دیکھے ہے ہزاروں رستے ہم سے اندھے، اسی در جائیں گے ہم کو معلوم، ہے یہ لا حاصل پھر بھی تا حدِ نظر جائیں گے ہم کنارے پہ اتر بھی جائیں ساتھ پاؤں کے بھنور جائیں گے ٹوٹ کر اور ہوئے ہم مضبوط خوف یہ تھا کہ بکھر جائیں گے عمر بھر وہم یہ دل سے نہ گیا ایک دن ہم بھی سنور جائیں گے جو کٹی جیسی کٹی ،خیر ، مگر یوں ہی کیا ساری بسر جائیں گے بعد مدت کے ملے ، شرمندہ دعویٰ دونوں کا تھا مر جائیں گے دھوپ نکلی تو بھرم ٹوٹ گیا ہم جدھر جائیں شجر جائیں گے کتنے خوش فہم ہیں شاعر ، ابرک ہم ہی ہم ہوں گے جدھر جائیں گے

6 comments

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.