شاعری
تیرے دل سے جو اتر جائیں گے اپنے ہونے سے مکر جائیں گے اب قفس کا یہ تکلف کیسا اُڑ بھی جائیں تو کدھر جائیں گے آنکھ دیکھے ہے ہزاروں رستے ہم سے اندھے، اسی در جائیں گے ہم کو معلوم، ہے یہ لا حاصل پھر بھی تا حدِ نظر جائیں گے ہم کنارے پہ اتر بھی جائیں ساتھ پاؤں کے بھنور جائیں گے ٹوٹ کر اور ہوئے ہم مضبوط خوف یہ تھا کہ بکھر جائیں گے عمر بھر وہم یہ دل سے نہ گیا ایک دن ہم بھی سنور جائیں گے جو کٹی جیسی کٹی ،خیر ، مگر یوں ہی کیا ساری بسر جائیں گے بعد مدت کے ملے ، شرمندہ دعویٰ دونوں کا تھا مر جائیں گے دھوپ نکلی تو بھرم ٹوٹ گیا ہم جدھر جائیں شجر جائیں گے کتنے خوش فہم ہیں شاعر ، ابرک ہم ہی ہم ہوں گے جدھر جائیں گے
6 comments
Nice poetry brother
Thanks dear for your response
What a beautiful poetry I love and like your that poetry thanks for sharing the beautiful line's
سلامت رہیں آ باد رہیں
The best line was "اڑ بھی جائیں گے تو کدھر جائیں گے"
بہت شکریہ جناب