درختوں سے محبت کی ایک کہانی
وہ درخت تو میری پیدائش سے بہت پہلے ہی ہمارے گھر میں موجود تھا۔ میں نے جب سے اپنی آنکھیں کھولی ہیں اسے اپنے گھر میں موجود دیکھا۔ وہ ایک شیشم کا تناور درخت تھا اونچا اور گھنا سایہ دار۔ بچپن میں میں، میرا بھائی اور میرے چچا کے بیٹے اس پر چڑھتے اور جھولتے۔ ہم تنے سے درخت پر چڑھتے اور نیچے کی طرف جھولتی ہوئی شاخوں سے نیچے اتر آتے۔ اسطرح چڑھنا اور پھر نیچے اترنا ہمارا محبوب مشغلہ تھا۔ گرمیوں کے دنوں میں سارا دن ہمارے گھر میں چھاوں رہتی۔ ہمارے پڑوس کے گھروں کی بڑی عمر کی خواتین بھی دوپہر کے وقت اکثر اوقات ہمارے گھر آ جاتی کہ ان کے بیٹھنے کے لیے بہترین جگہ ہر وقت میسر ہوتی۔ میری والدہ محترمہ ان خواتین کا بہت احترام کرتیں۔ میرے ننہیال کا گھر قریب ہی تھا میری نانی اپنی نواسی( میری بہن)سےکنگھی کروانے روزانہ ہمارے گھر آتیں اور اسی شیشم کے درخت کی چھاوں میں بیٹھ کر کنگھی کرواتیں۔ سردیوں کے دنوں میں جب شیشم کے پتے سوکھ کر گرتے تو ہم انہیں اکٹھا کر کبھی جلا دیتے اور کبھی ان پر لیٹ جاتے۔ میری پیدائش سے بچپن اور بچپن سے لڑکپن تک کا سارا ذمانہ اس شیشم کے درخت کے ساتھ جڑا ہے کیونکہ وہ درخت ہمارے گھر میں ہمارے خاندان کا حصہ تھا۔ ایک مرتبہ ہم نے شیشم کے اس درخت کی بائیں شاخ پر رسیوں کا جھولا بنایا بس پھر کیا تھا وہ جھولا پورے محلے کے بچوں کی تفریح کا سامان ہو گیا۔ اکثر اوقات ایسا ہوا کہ جھولا جھولنے کے لیے بچے آپس میں لڑائی شروع کر دیتے تو میری والدہ اور کبھی کبھار تایازاد بہنیں بچوں کی جھولنے کی باریاں بنا دتیں۔ اسطرح کی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں میں میں بھی شامل ہوتا۔ میں شاید ساتویں یا آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک دن صبح ناشتے کے بعد میں اور میرے چچا کے بچے شیشم کے اس درخت سے بندھی رسی کے جھولے پر جھول رہے تھے کہ میری والدہ (جو کہ پاس ہی پڑی چارپائی پر بیٹھ کر کڑھائی کر رہیں تھیں) نے کہا کہ مجھے بھی جھولے لینے ہیں۔ سارے بچے خوش ہونے کے ساتھ حیران بھی ہوئے کہ خالہ کو پتا نہیں کیا سوجھی بیٹھے بیٹھے کہنے لگیں کہ میں نے بھی جھولنا ہے۔ امی جان جب رسی کے اس جھولے پر بیٹھیں تو میں نے پیچھے سے جھولے کے لیے ہلکا سا دھکا لگایا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جیسے ہی جھولا ہوا میں تھوڑا سا اوپر گیا رسی ٹوٹ گئی اور امی جان زمین پر گر گئیں۔ میری بہن اور چچازاد بہنیں یہ سب دیکھ رہی تھیں، دوڑ کر آئیں اور امی جان کو زمین سے اٹھا کر چارپائی پر لٹایا اور ان کی تیمار داری میں مصروف ہو گئیں۔ جب تھوڑی دیر کے بعد امی جان کی طبعیت سنبھلی تو تائی اماں جو کہ میری والدہ کی بڑی بہن بھی ہیں (اور ہم بہن بھائی انہیں بھی اپنی ماں کے برابر ہی سمجھتے ہیں) نے فورا حکم لگایا کہ جھولا کاٹ دو۔ میں اور میرا بھائی درخت پر چڑھے اور جھولا کاٹ دیا۔ اس واقع کے تقریبا 24 سال بعد تک شیشم کا وہ درخت ہمارے گھر میں موجود رہا لیکن کبھی دوبارہ اس درخت پر جھولا نہیں باندھا گیا۔ امی جان کی تھوڑی دیر بعد جب طبعیت بہتر ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایک مرتبہ پہلے بھی اسی طرح جھولتے ہوئے اسی درخت سے بندھے جھولے سےاس سے زیادہ اونچائی سے گری تھیں لیکن اللہ کا شکر ہے اس وقت وزن کم ہونے کی وجہ زیادہ چوٹ نہیں آئی اور ہڈیاں محفوظ رہیں تھی۔ ہم نے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میری نئی نئی شادی ہوئی تھی درخت کے ساتھ پہلے سے ہی کسی نے جھولا باندھ رکھا تھا۔ ایک دن میں جھولنی لگی تو وہ جھولا ٹوٹ گیا تمھارے ابو اور پھوپی (ہماری دادی اماں کیونکہ امی جان کی پھوپی تھیں تو اس لیے وہ انہیں ہمشیہ پھوپی کہہ کر بلاتی تھیں) اس وقت گھر میں موجود تھے، انہوں نے مجھے اٹھایا اور تیمارداری کی۔پھر انہوں نے تمھارے ابو کو حکم دیا کہ جھولے کی رسیاں کاٹ دو۔ اس کے بعد جب کہ وہ زندہ رہیں کبھی کسی نے جھولا نہیں باندھا کہ وہ منع کرتی تھیں۔ 1992ء میں میں جب صرف چار سال کا تھا دادی جان کا انتقال ہو گیا۔ امی جان نے بتایا کہ پھوپھی ( ہماری دادی اماں) بتاتی تھیں شیشم کا یہ درخت ہم نے اس وقت لگایا تھا جب 1970ء میں ہم گاوں چھوڑ کر نئے نئے اس چھوٹے سے شہر میں رہنے آئے تھے۔ امی جان نے ایک بار بتایا کہ "میری شادی ابھی نہیں ہوئی تھی اور کوئی خواب خیال بھی نہیں تھا کہ میری شادی پھوپی کے گھر ہو جائے گی۔میں اماں کے ساتھ پھوپی کے گھر ان کو ملنے کے لیے آئی تو چند چند رہی۔ اس وقت پھوپی کے گھر میں دوکمرے تھے اور ابھی جس جگہ تمھارے چچا کا کمرہ ہے یہاں پر بہت بڑا بیری کا درخت تھا اور شیشم کا یہ درخت ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا تھا۔ وہ گرمیوں کے دن تھے پھوپی روز ان دونوں درختوں کو پانی دیتیں۔" (جاری)
No comments yet