اعمال دیکھ کر ہی گر فیصلہ ہوا اعمال دیکھ کر ہی گر فیصلہ ہوا مجھے بتا کہ تو پھرکیوںکرخدا ہوا ؟ جو کچھ بھی کہتا ہوں کہتے ہو جواباً کچھ اور کہو ، یہ تو ہے پہلے سنا ہوا ہر شخص انقلاب کا ہے منتظر یہاں اپنی اپنی زنجیر سے لیکن بندھا ہوا روز تیرے غضب کو دیتا ہو میں آواز اک تو ، کہ ، بخش دینے پہ ہر دم تلا ہوا اے ساقی اسی فکر میں رہتا ہوں آج کل واعظ ، ہاتھ دھو کے ہے پیچھے پڑا ہوا
No comments yet