کبھی زلف پر کبھی چشم پر کبھی تیرے حسین وجود پر جو پسند تھے میری کتاب میں وہ شعر سارے بکھر گئے مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے ، مگر آج ہم ہیں جدا جدا وہ جدا ہوئے تو سنور گئے، ہم جدا ہوئے تو بکھر گئے
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet