read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

تری قید سے میں یونہی رہا نہیں ہو رہا مری زندگی ترا حق ادا نہیں ہو رہا ترے جیتے جاگتے اور کوئی مرے دل میں ہے مرے دوست کیا یہ بہت برا نہیں ہو رہا مرا موسموں سے تو پھر گلہ ہی فضول ہے تجھے چھو کے بھی میں اگر ہرا نہیں ہو رہا کوئی شعر ہے جو میں چاہ کر بھی نہ لکھ سکا کوئی واقعہ ہے جو رونما نہیں ہو رہا یہ جو ڈگمگانے لگی ہے تیرے دیے کی لو اسے مجھ سے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا مجھے علم ہے مری کشتیوں میں سوراخ ہیں جبھی پار جانے کا حوصلہ نہیں ہو رہا تہذیب حافی

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.