اس خبر کے کئی پہلو ہیں۔ پہلے پہلو میں یہ خوشی کہ عوام کی "کمیشن خور ڈاکٹرز" سے جان چھوٹ جائے گی اور یوں کچھ شریف النفس ڈاکٹرز جو واقعی کمیشن نہیں کھاتے اور پہلے بھی فارمولا لکھتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں ان کی عزت پہ بات نہیں آئے گی۔ دوسرا پہلو بہت خطرناک ہے۔ DRAP نے ہر فارغ برینڈ کو دوائی بنانے کے آرڈر دئیے ہوئے ہیں، ہر گھٹیا کمپنی ان سے رجسٹرڈ ہے اور ہر کمپنی کا مالک بہت بڑا بزنس مین ہے جن میں سے زیادہ تر کی تعداد صوبائی اور وفاقی ارکان اسمبلیوں کی ہے۔ تیسری بات کے پہلے بھی 'فارمولا' لکھنے والے ڈاکٹرز کو یہ مشکلات آتی ہیں کہ جب وہ کمپنی کا نام لکھنے کی بجائے دوائی میں موجود 'سالٹ' کا نام لکھتے ہیں تو فارمیسی یا میڈیکل اسٹور والا اسے گھٹیا کمپنی کی دوائی دیتا ہے جس سے مریض ٹھیک ہی نہیں ہوپاتا اور اس سے مریض ڈاکٹر سے نالاں رہتا ہے کہ شاید اس نے علاج ٹھیک نہیں کیا یا اسے میری بیماری کا علم نہیں ہوا۔ آخری بات اب کمپنی/ میڈیکل ریپ والوں کو ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا پڑے گا بلکہ وہ ڈائریکٹ میڈیکل اسٹور والوں کے پاس جائیں گے اور کمیشن ڈاکٹرز سے اسٹور والوں کی طرف منتقل ہوگا، غریب مریض کو فائدہ نا پہلے تھا نا اب ہوگا، پہلے تو ڈاکٹرز پھر بھی سیمپل اپنے پاس رکھتے تھے جو غریبوں میں بانٹے جاتے تھے شاید اب تو وہ سیمپل تک بھی بیچے جائیں گے۔ ان سب کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کے کسی گھٹیا کمپنی کو لائیسنس ہی نا دیا جائے اور ایسی دوائی/ کمپنی ہو جو ایک فارمولے کی صرف دو یا تین ہوں جن کی مختلف قیمتیں ہوں لیکن وہ موثر ہو، لیکن ایسا کرے گا کون؟ بہرحال اس اقدام سے یہ خوشی ضرور ہے کہ مریض ٹھیک ہو یا نا یو کم از کم وہ ڈاکٹر پہ اپزام نہیں لگا سکے گا اور یوں کمیشن کھانے والا یہ دھبہ بھی شاید مٹ سکے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو! ~ عمیر بلوچ ✍️
No comments yet