ایک پرانی تحریر !!۔ 😔یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا چار دن گاؤں میں گزارنے کے بعد ، مختلف کام نمٹا لینے کے بعد اب کافی ریلیکس محسوس کر رہا تھا ، جیسے میں ری چارج ہوگیا ہوں۔۔۔ بہت تھیں اتنی چھٹیاں ۔۔۔ اب سوچا لوٹ چلتے ہیں ۔۔۔ ذہن ایک دم تازہ تھا ۔۔ نئے سیشن اور چھوٹی سی فری لائسنگ کمپنی پھر سے سنبھالنے کیلئے تیار تھا ، عصر ٹائم پہنچا ۔۔۔ موبائل چلایا ۔۔ فیس بک کھولی ۔۔ وہ ایک اداکارہ کی ویڈیو وائرل تھی جو بتا رہی تھیں کیسے وہ باپ کے کردار نبھانے والے کو ٹھرک کی وجہ سے جھپیاں ڈالتی تھی۔ ۔۔۔ سوچا اس کی لائف ہے جو کرے ۔۔ واحیاتی پھیلا رہی ۔۔ اللہ پوچھے گا ۔۔ ایک خواجہ سر کے اغوا کے بعد قتل کی داستان پڑھی ۔۔ سوچا ان کا کیا ہو سکتا ۔۔ جب میں خود ان کو سڑک پہ دیکھ کے طنزیہ ہنس دیتا ہوں، کسی کو گالی دینی ہو کھسرا کہہ دیتا ہوں تو سوچ جب سارے معاشرے کی یہی تو کیا کیا جا سکتا۔۔ پھر رات کو موٹر وے پہ ایک گاڑی میں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی عورت کی ریب کی خبر پڑھی ۔۔۔ دل پھٹ گیا ۔۔ اب بس ہوگئی تھی۔۔۔ وہ بھی بچوں کے سامنے ۔۔ وہ بھی موٹروے پہ ۔۔ وہ بھی اتنے رش میں ۔۔ وہ لوگ۔۔وہ شیشے توڑے گئے تو سب چپ کیسے گزرتے رہے ۔۔ ؟؟ اب سب چیخ چلا رہے ہیں ؟؟ کیوں ؟؟ یہاں حادثے دیکھ کے پہلے ویڈیو بنائی جاتی نہ مدد۔۔ ہم سب ایک جیسے ہیں .. پھر چلاتے کیوں ہیں ؟؟ کون حادثات کو دیکھ کے رکتا ہے ؟؟ کہتے ہیں نہ کہ سانحہ سے بڑھ کے سانحہ یہ ہوا ۔ لوگ ٹھہرے نہیں سانحہ دیکھ کر ۔۔۔ اب ہمت جواب دے گئی ۔۔ میں مانتا ہوں اسی بے حس معاشرے کا حصہ ہوں۔۔لیکن انسان ہوں جانور نہیں ۔۔۔ دل ٹوٹ گیا ۔۔ وہ ری چارج ہوکے آیا تھا اب فنش ۔۔ دل بیٹھ گیا ۔۔ آخر کب تک ۔۔۔ اتنے بے حس کیوں ہیں ہم ؟؟ سزاؤں کا ادراک کیوں نہیں ہوتا ؟؟ ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں کو نہیں پتہ کہ زنا کی سزا سرے عام کوڑے اور پتھر مار کے موت تھی وہاں اور یہ تو ریپ ہے ؟؟ زبردستی ۔۔ یہاں کسی ریپسٹ کو سزا ملی ہو ؟؟ وہ مناہل ؟؟ وہ چھوٹی بچیاں جن کیلئے ہم خوب چیخے چلائے تھے ؟؟ ان ریپسٹ کو کوئی پال رہا ہے ..؟؟ ہمارا انصاف کا نظام ان کی رکھوالی کا کام کرتا ہے ؟؟ یہ جج یہ عدالتیں جو امیروں اور ان ریپسٹ کے گھروں کی لونڈیاں ہیں پھر ؟؟ سچ لکھا تھا نا کسی اخبار والے نے ؟؟ ارے اس کی سزا تو مغربی غیر مسلم ممالک میں بھی ہے۔۔ اور کتنے واقعات پہ فقط دو دن شور مچا کے چپ ہو جائیں گے؟ یہاں دو سال کی بچی سے لیکر پچاس سال کی عورت تک کوئی محفوظ نہیں ۔۔یہاں مسجدوں میں قرآن پڑھتے بچے محفوظ نہیں ، یہاں یونیورسٹیوں میں پڑھتی طلبا محفوظ نہیں۔۔ قصور کس کا ؟؟ میں کہتا سب کا ۔۔ ہم سب کا۔۔ ہم کتنے شریف ہیں ؟؟ ہم کس کے پیچھے بھاگ رہے ؟؟ سارا دن بہولے کتے کی طرح صرف اسی کام کی تلاش میں رہتے ہیں فیس بک انسٹا ،ہر جگہ اسی چیز کی تلاش ہے نا ؟؟ تو کون نیک ہے؟ سب بھاگ رہے ۔ خدارا خود کو بدلتے ہیں ۔۔ منافقت کو۔ چھوڑیں ۔۔ معاشرے کی عورت کو حقیقی عزت نہیں ۔۔۔ حالات دن بدن بگڑ رہے۔۔ یہاں تک نوبت نہ آجائے کہ بات ہم سب کے گھر تک آ جائے ۔۔ پرائے کا غم نہیں ہوتا ہم فقط شور مچاتے ہیں۔۔۔ واحیاتی پھلانے والوں سے ریپ کرنے والوں سب کو روکا جائے ۔۔ وہ جو اپنے جسموں کی نمائش کر کے ، مرد کی حوس کی بھوک بڑھاتی وہ چاہے ٹک ٹاک پہ ناچنے والی طوائف( ویسے طوائف کا کردار تو بڑا کھلا ہے بھوک بڑھاتی ہے تو بھوک مٹاتی بھی ہے ، یہ تو بھوک بڑھانے کا کام کرتی ہیں جو کسی اور کے ریپ کی صورت نتائج نکلتے ہیں ) ہو یا بازار سج دھج کے نکلنے والی سب اس میں برابر کی شریک ہیں ، پھر جب تم بھوک بڑھاؤ گی تو کتے کہیں تو جھپٹیں گے ۔۔۔۔ آخر میں صرف یہی کہوں گا کہ یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا اے چاند یہاں نہ نکلا کر ✍️ عمیر بلوچ
No comments yet