ہم چھوٹے ہوتے تھے تو پی ٹی وی پہ اشتہارات میں وسیم اکرم ، شاہد آفریدی کوکا کولا پیپسی پیتے دیکھائی دیتے تھے اور سلمان بٹ شیمپو کے ایڈ میں ، تو ہم سوچا کرتے کہ یہ لوگ شاید یہ چیزیں استعمال کرتے ہوں یہی تصور ہمارے ذہن میں تھا کہ یہ چیزیں اتنی اچھی ہیں کہ دیکھو اتنے بڑے کھلاڑی اور سٹار یہ استعمال کرتے ہیں ، لہذا اعوام بھی دیکھے گی اور کرے گی۔۔۔اور ان کا مال بکے گا ۔۔ اور ایک اب دور ہے۔۔۔ ہر ایڈ ، ہر اشتہار ، ہر پینا فلیکس پہ عورت ، آدھی ننگی اور کبھی پوری۔۔۔ عورت کو اٹرکشن مٹریل بنا کے رکھ دیا صرف ہم نے نہیں ،پوری دنیا نے، ۔۔۔ اچھا لیکن دوغلی پالیسی صرف ہمارے ہاں ہے۔۔۔ مذہب کے پیروکار بھی۔۔ عمران خان کو ریاست مدینہ کے طعنے بھی اور خود ہمارے معیار اللہ معاف کرے ۔۔ مرد حضرات کا ایک طبقہ (عملی منافق ترین ) جن کو نیم برہنہ عورت کو دیکھ کے ، اس کا ہاتھ پکڑ کے ، اس کے ساتھ چل کے کوئی فرق نہیں پڑتا ، کوئی فیلنگ نہیں آتی ، کیونکہ پہلی بات تو ان کی نیت صاف ہے، اور دوسری بات وہ اکثر سچی محبت کرتے پائے جاتے لہذا محبت سچی ہو تو عورت کیلئے اٹرکشن ختم ہو جاتی ( بس شادی نہ ہو ان کی تو خود کشی کرلیتے ، بھئی محبت تھی تو اب بھی کرو لازمی شادی کرنی , پھر واضح کیا کرو کہ محبت کے بعد بچے پیدا کرنا لازم ہے ) خیر اس طبقے کو کوئی فرق نہیں پڑتا ( شاید واقعی نہ پڑتا ہو ان کے میڈیکل ٹسٹ کے رزلٹ اندوہناک بھی ہو سکتے ناں ) وہی نا بس نیت صاف ہونی چاہیے اور اسی نیت صاف کے چکر میں یہ لاشیں ہسپتال چھوڑ کے بھاگ جاتے پھر۔۔۔ خیر ہمیں تو فرق پڑتا ہے شاید ہم گناہ گار اس لیول کے ہوں ، لیکن اس کیلئے ہمارا نیک ہونا ضروری نہیں، ہاں نا اسلام نے تو جوانی کے بعد ماں اور بہن کے ساتھ سونے سے منع کیا کیونکہ نیت صاف بھی ہوتو فرق پڑتا ہے، ، ان رشتوں سے زیادہ کوئی رشتہ مقدس ہو سکتا ؟؟ یا ان سے زیادہ کسی کیلئے نیت صاف ہو سکتی ؟؟ لیکن خیر پھر چٹ پٹے کھانوں کے اشتہار دیکھاؤ گے بھوک تو بڑھے گے، ۔۔ اور دماغی مریضوں کی جب بڑھے گی تو پھر وہ لپکیں گے تو لازمی ، چاہے سامنے معصوم زینب ہو یا معصوم فرشتے۔۔۔لیکن خیر یورپی ملکوں کی مثال دینے سے پہلے یہ سوچ لینا وہاں بھوک بڑھانے والے کھانے خود ہی میسر آتے ہیں اور باآسانی میسر ہے۔۔ لیکن یہاں صرف بھوک بڑھانے کا کام کیا جاتا ( مطلب یہ نہ نکالا جائے کہ خوراک کے طور پیش کیوں نہیں ہوتے ، یہ نکالا جائے کہ بھوک بڑھانے کا سبب ہی کیوں بنتے چلو اب مثبت سوچتے ہیں ، شاید بلیو سٹی میں حلیمہ سلطان یا ارسہ بلجیک رہائش پذیر ہونے آئے گی۔۔۔ لیکن خیر ہم رکتے ہی وہی ہیں ہماری نظریں ٹھہرتی ہی وہیں جہاں صنف نازک کا دیدار ہو۔۔۔ (میں نے زبرستی حلیمہ سلطان کو حجاب کرانے کی ناکام کوشش کی ہے معاف کیجیے گا کیونکہ اسلام میں زبردستی نہیں ہے) ✍️"عمیر"
No comments yet