Diary Of A Medical Student Day #3 شب غم کی آپ بیتی جو سنائی انجمن میں کئی سن کے مسکرائے ، کئی مسکرا کے روئے کل رات صحیح طرح سے نیند ہی نہیں آئی ۔ 2 بجے تک تو بور ہوتا رہا ۔ کبھی نیٹفلیکس کھولتا تو کبھی پبجی کھیلتا لیکن پبجی کھیلی ہی نہیں جارہی تھی ۔ پھر یاد آیا کہ آج تو میرے فیورٹ ڈرامہ کی قسط آنی تھی ۔ رات کے 2 بجے فٹ سے خدا اور محبت سرچ کی اور بغیر کوئی سیکنڈ ادھر ادھر کئے سارا دیکھا ۔پھر نیند کی وادیوں میں کھو گیا ۔ صبح 1 بجے نیند سے اٹھا۔ ہاتھ منہ دھو کہ بھائی کو چائے گرم کرنے کو کہا ۔ تب تک نوائز کیش اوپن کی تو لوگوں کے گڈ مارننگ تو کسی کے گڈ آفٹر نون کی پوسٹس آئی ہوئی تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں گڈ مارننگ لکھوں یا گڈ آفٹر نون 😁😸۔ سو عقلمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اور اپنی کنڈیشن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گڈ آفٹر نون کی پوسٹ کر ڈالی۔ پھر ایک دو لوگوں کی پوسٹس نظر سے گزری ۔ کوئی خوامخواہ میں گالیاں دے رہا تھا تو کوئی دکھ بھری پوسٹس کر رہا تھا ۔ ان سب چیزوں کو اگنور کر کے موبائل میں بزی ہو گیا۔ شام کے ٹائم امی ابو کے ساھ کچے چنے نکلوائے (اپنی زبان میں ہم انہیں ڈڈے کہتے ہیں ان سے باتیں ہوئی تھوڑی بہت۔ پھر سوچا کیوں نہ اپنے لئے جوتی لے آوں ۔ ہمارے شہر میں کوئی قابل زکر برینڈ ہے ہی نہیں صرف باٹا کی اوپن رہتی ہے لیکن وہاں اچھا سٹف تھا ہی نہیں۔ پھر سوچا کوئی 1000، 1200 والی ابھی لے لیتا ہوں ہوسٹل جا کے اور لے لونگا ۔ سو ایک جوتی پسند کی ۔ بازار میں مختلف قسم کے آٹو ریکارڈڈ آوازیں چل رہی تھیں لیکن ایک ریکارڈنگ نے مجھے چونکا دیا ۔ ریکارڈنگ کچھ یوں تھی "بڑا گلاس 70 روپے ، چھوٹا گلاس 100 روپے " دنیا کی یہ پہلی دکان تھی شاید جہاں پہ چھوٹا گلاس مہنگا اور بڑا گلاس سستا تھا۔ وہی سے جوس پیا اور زیر نظر تصویر اسی دکان میں بیٹھ کے بنائی تھی ۔ آخر میں اسے بتایا کہ بھائی ریکارڈنگ تو ٹھیک کر لو 🤠😅۔ اج گاؤں جانا تھا لیکن کسی وجہ سے رک گیا اسی لئے کل جاؤں گا اور کسی کو سرپرائز دینا ہے کیوں کہ اسے بتایا نہیں کہ میں آ رہا ہوں ۔ ابھی اسی سوچ میں گم ہوں کہ وہاں کس سے اور کیسے ملوں گا ۔ خیر آج کوئی اور قابل زکر واقعہ نہیں ہوا ۔ ابھی بہت ساری باتیں باقی ہیں لیکن یہاں نہیں لکھ سکتا ۔ وہ اپنی اصل ڈائیری پہ اتارتا ہوں اور یہ والی باتیں بھی شئیر کروں گا ! ۔ابھی صرف یہی شعر یاد آ رہا ہے کہ وہ جو خواب تھے میرے زہن میں ، نہ میں کہہ سکا نہ میں لکھ سکا !۔ (سنا ہے وہ میری پوسٹیں اس کو پریشان کرتی ہیں اسی لئے کوشش کرونگا کہ آئندہ اس کا زکر نہیں کروں ۔ کرونگا بھی تو دوسری والی ڈائری میں کرونگا آج کے لئے بہت ہے ، کل کی بات کل لکھیں گے ۔ کل شاید میری پوسٹس نہ آئیں کیونکہ گاؤں میں سگنل نہیں ہوتے لیکن اپنی ڈائیری ضرور بھیجوں گا انشاء اللہ ! ۔ زندہ رہے تو کل ہوگی فکر تمہاری اس رات چل بسے تو اپنا خیال رکھنا از قلم ۔ عمیر قیصرانی مورخہ 20 مارچ 2021
No comments yet