Diary Of A Medical Student Day # 1 آج کا دن کچھ زیادہ ہی مصروف رہا ۔ تقریباً 4 بار مجھے ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا ۔ زہن کئی قسم کے انجانے ، اندیکھی یادوں میں گھرا ہوا تھا ۔ تھکا ہوا ہونے کے باوجود مجھے جانا تھا کیونکہ اسی کام کی وجہ سے میں ہوسٹل رکا ہوا تھا۔ بوجھے دل کے ساتھ صبح صبح اٹھا اور کلرک آفس روانہ ہوا ۔ زہن میں ماہی کے ساھ ہونے والی گفتگو مجھے جھنجھوڑ رہی تھی ۔ اس کے سارے الفاظ ٹھیک تھے لیکن ان پہ عمل کرنا مشکل تھا "میچور بنو ، ان چیزوں سے نکلو ، ڈاکٹر بنو ، دل پھینک نہ بنو " اس کی ایک ایک بات دل کو لگی تھی اور اس کا پتہ مجھے اس وقت چلا جب آج ایک دوست کے مریض کو دکھانا تھا۔ اس کو برین ہیمرج تھا تو سامنے بیٹھے ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہوا ۔ میں نے بتایا کہ برین ہیمرج ہوا ہے۔ اس نے پوچھا کہ کیسے ؟ تمہیں کیسے پتہ کہ برین ہیمرج ہے۔ میرا زہن پہلے ہی جگہ پہ نہیں تھا اوپر سے اس کے سوالات دماغ کو اور پاگل کر رہے تھے ۔میں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ آپ اس کی ٹریٹمنٹ کریں ! پھر اس نے کہا کہ "کیا آپ واقعی میڈیکل سٹوڈینٹ ہو ؟" یہ سوال میرے زہن میں کئی طرح کے سوال چھوڑ گیا اور ماہی کی بات یہاں پہ بہت یاد آئی کہ "ڈاکٹر بنو " کیا مطلب ،؟ میں اب اپنی پہچان کھو رہا تھا آہستہ آہستہ ؟ وہ ساری باتیں مجھے چین نہیں دے رہی تھی ۔ میں نے دوست کے مریض کا جیسے تیسے سی ٹی سکین کروایا اور اسے مختصراً ساری بات بتا دی کہ یار آج میں ہوش میں نہیں ہوں ۔ اس نے کہا کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ جسٹ آج مجھے اجازت دے دے میری حالت غیر ہے۔ وہ بولا کہ او کے تو چلا جا ، میں تونسہ رک جاؤں گا تیرے پاس ۔ اس نے مجھے ایک بات کہی اور وہ وہی بات تھی جو مجھے ماہی کر چکی تھی کہ "میچور بنو ، نکلو ان چیزوں سے ، یہ ٹمپوریری ہیں ، چند لمحے کے لئے ہیں ، پھر جب سوچو گے تو ہنسی ائے گی " میں نے دوست کو بولا کہ یار بس آخری بار ہے ، آئیندہ نہیں ہوگا بس ؟؟؟ میں خود سے عہد کر کے اور میڈیکل لائف کے چار سالہ دور میں پہلی بار میں کسی مریض کو آدھا چیک اپ کرا کے واپس آ گیا ۔ ہوسٹل اتے ہی سامان پیک کیا اور گھر کو چل دیا ! راستے میں رکشے والے نے بڑا کام کیا ۔ میں نے اس سے بولا کہ اعوان چوک چلو ۔ وہ دوسری سواریوں کے ساتھ ہی مجھے وزیر آباد (ساتھ والی بستی )لے آیا ،میں حیران اعوان چوک تو آیا ہی نہیں ۔ وہ بولا وہ تو کب کا گزر چکا ۔ مرتا کیا نہ کرتا ، دوسرا رکشہ پکڑا اور 350 کا اضافی کرایہ دے کے واپس ہو لیا ۔ راستے میں نماز کے لئے رکے تو امام سے پہلے ہی سجدے سے اٹھ بیٹھا۔ مجھے وہ شعر یاد آیا میں تیری یاد میں گم سم لڑکا امام سے پہلے سلام پھیر بیٹھا جیسے تیسے گھر پہنچا تو امی ابو کو دیکھ کر سب پریشانیاں بھول گیا ۔ اور اب بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ لوگوں کو آج کی روداد سنا رہا ہوں ۔ کل کا احوال کل کو لکھتا ہوں انشاء اللہ ! ۔ زندہ رہے تو کل ہوگی فکر تمہاری اس رات چل بسے تو اپنا خیال رکھنا !!۔ از قلم .۔ عمیر قیصرانی !!!۔
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet