کوئی چاند رکھ میری شام پر میرا دل جلے تیرے نام پر خواہش میری آتش بنی کیا کیا مگر سازش بنی چھینے کوئی سانسیں میری لوٹے میرا چینا سونا لگے منوا میرا بجھنے لگے نیناں جیسے ستارہ تقدیر ہارا کرتا رہا التجا کوئی چاند رکھ میری شام پر میرا دل جلے تیرے نام پر روکھے روکھے سے لمحے آوارہ پن کا صلہ سوکھے سوکھے سے رشتے بھیگا بھیگا گلہ شب و روز کا ملنا تھا کیا مجھا کہ یوں کھلنا تھا کیا دل تھا میرا ٹوٹا ہوا کہتا تھا بجھتا ہوا کوئی چاند رکھ میری شام پر میرا دل جلے تیرے نام پر سونا سونا وہ رستہ کب میری منزل ہوا کھویا کھویا وہ ملنا کتنا مشکل ہوا دو جسم تھے روحیں نہ تھیں ملنا اگر ممکن نہیں تو چھوڑ دے اس حال پر سن لے میری یہ دعا کوئی چاند رکھ میری شام پر میرا دل جلے تیرے نام پر
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet