کبھی کبھی زندگی اتنی ظالم بن جاتی ہے کہ سمجھ نہیں آتا اسکے کئے گئے ظلموں پر ہنسیں یا روئیں ۔ سخت سے سخت انسان کا واسطہ جب زندگی کی تلخیوں سے پڑتا ہے تو وہ موم بن کر پگھل جاتا ہے اور معلوم بھی نہیں پڑتا کب اور کیسے وہ ختم ہوجاتا ہے۔ کبھی ڈھونڈنے کی کوشش کرنا یہ زندگی کے مارے لوگ اپنے آس پاس ملیں گے آپکو لوگوں کو ہنساتے ہوے ۔ جن کو ناسمجھ اور پاگل کہ کے مذاق اڑایا جاتا ہے ہاں۔۔ لہذا جو جیسا ہے اسے ویسا رہنے دیجیے آپ نہیں جانتے کون کیسی مشکلات سے لڑ رہا ہے۔ مدر نہیں کر سکتے تو انکے زخموں پر نمک بھی مت چھڑکیں۔۔
No comments yet