ایک مختصر کہانی !!!!ہ بارشوں کے تیور... غم پہ پڑتی ہوئ پھوار ہوجیسے. کہ جیسے کھڑکی سے باہر برستے بادلوں کی کہانی.. آنکھوں کی بڑھتی ہوئ نمی... ماضی کی کتاب سجی ہوئ ٹیبل پر.... چائے کا بھرا کپ... جیسے دردوں کو پی رہا ہو.. ویسے بارش پھوار بن کر غموں کو بھیگا رہی ہے... یہ آنکھوں کورفتہ رفتہ دھندلا رہی ہے..❗ ازقلم --عمیر قیصرانی
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet