read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے آپ تو خیر سمجھ دار نظر آتے ہیں میں کہاں جاؤں کروں کس سے شکایت اس کی ہر طرف اس کے طرفدار نظر آتے ہیں زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے پھر ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابشؔ اور پھر وہ ہی لگاتار نظر آتے ہیں

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.