سوچا تمہاری شکایت کروں رب سے پھر یاد آیا مانگا بھی اسی سے تھا ہم ہمیشہ اس بات کو مزاق سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ جو اللہ کی مرضی ہوتی ہے وہی ہمارے لئے بہترین ہوتی ہے ۔ لیکن ہم کسی کی چاہت کے پیچھے اتنے پاگل ہوتے ہیں کہ اک بچے کی طرح ضد کر کے بیٹھ جاتے ہیں کہ ہمیں چاہئے تو چاہئے لیکن پھر ہمیں اپنی غلطی کا احساس تب ہوتا ہے جب ہمیں لگتا ہے کہ اب کچھ نہیں بچا ! کسی کو چاہتے رہنا کوئی خطا تو نہیں خوش رہیں اور دعا ہے کہ آپ کو وہ سب ملے جو آپکے حق میں بہتر ہو ~ڈاکٹر عمیر قیصرانی
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet