ہر پاکستانی ایک بار ضرور پڑھے ۔ شکریہ عورت!!!!!!!!!!!!!!!۔ آج پھر وہ میرے سامنے بیٹھی رو رہی تھی ۔ اس کے خاوند نے آج پھر اسے مارا تھا ۔ کہنے کو تو وہ حاجی نمازی تھا لیکن اس نے پتہ نہیں کہاں سے ایک بات سنی ہوئی تھی کہ "بیوی کو اتنا مارو کہ اس کی ہڈی نہ ٹوٹے " اس کی نظر میں یہ سب جائز تھا ۔اسلام کے عین مطابق تھا۔ ماں باپ جو اسے پہلے ہی ایک ہی بات کہہ چکے تھے کہ "خاوند کے گھر سے عورت کا صرف جنازہ نکلنا چاہئے" مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کو دلاسہ دوں تو کیسے دوں میں بھی تو ایک مرد تھا ۔وہ روئے جا رہی تھی اور میں اس کو صبر کرنے کے علاوہ کچھ بھی کہنے سے قاصر تھا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ماں باپ بیٹی کو رخصت کرتے وقت دروازے بند کیوں کر دیتے ہیں ؟ اس کو یہ کہنے کی بجائے کہ "خاوند کے گھر سے عورت کا جنازہ ہی نکلتا ہے " یہ کیوں نہیں کہتا ہے کہ "بیٹی رشتے اور بہت ہیں ۔ اگر ظالم ،جابر نکلے تو لوٹ آنا ۔ زندگی ایک بار ملتی ہے اور اس زندگی کو ایک ظالم شخص کےلئے قربان نہ کرو" وہ روئے جا رہی تھی اور میں اس کو روتا دیکھ رہا تھا ۔ کہتے ہیں کہ جو بندہ رو رہا ہو اس کو رونے دینا چاہئے تا کہ اس کا اندر کا غبار اس کو گھٹ گھٹ کے مار نہ دے ۔ جب وہ چپ ہوئی تو جانے لگی تو میں صرف اتنا ہی کہہ سکا کہ "انشاللہ یہ آخری بار ہوگا" اور مجھے پتہ ہے میں پتہ نہیں کتنی بار یہ فقرہ کہہ چکا تھا اسے ۔ !!!. ✍️عمیر بلوچ
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet