ڈرامہ سیریل " ارتغل غازی " آج سے کم و بیش ڈیڑھ سال پہلے میرے ایک سینئیر " عادل بھائی " نے مجھے دیا جب میں ان سے " کوئی رومانس سے بھرپور ہندی مووی لینے گیا تھا " کہتے یار بلوچ ! مووی تو کوئی نہیں پڑی ، ہاں آج کل ایک ترک سیزن دیکھ رہا ہوں بہت مزے کا ہے تم بھی لے ہو ۔۔ اسلامی تاریخ کا انمول شاہ کار ہے ۔۔۔ ہم نے بھی دلِ ناچار کو سمجھاتے ہوئے لے لیا کہ " ہم نے کون سا دیکھنا ہے ۔۔ یہ سیزن ون تھا اور اس کی کوئی پچاس اقساط تھیں ایک دو درمیان میں مس تھیں ۔۔ میرے پاس جب بھی کوئی مووی نہ ہوتی اور بالکل فارغ ہوتا اس کو ہی لگا لیتا تھا لیکن تب اس کی ویڈیو کوالٹی بہت لو تھی اور کچھ اقساط بھی مس تھیں تو میں تب نہ دیکھ سکا ۔۔ ہاں حال ہی میں ، میں نے سیزن ون دیکھا ۔۔۔ ابھی حال ہی میں اس کی شہرت میں بے انتھا اضافہ ہوا ۔۔۔ اور عمران خان کی خاص فرمائش پہ اسے پی ٹی وی ہوم سے بھی نشر کیا جانے لگا ، اب سوشل میڈیا پہ الگ بحث چھڑ گئی ۔۔۔ ایک گروپ اس کے حق میں اور ایک گروپ اس کے خلاف ۔۔۔ ایک نیا تاریخ دان گروپ جنھیں ہمیشہ سے اپنی مطالعہ پاکستان کی کتاب سے اعتراض رہا کہ اس کے مطابق پاکستان 1965 کی جنگ جیتا ہوا ہے جب حقیقت میں ان کا چاچو انڈیا جیتا تھا ، یہ حق کے علم بردار فلاسفی خود کو نیوٹرل کہتے ہیں اور حق پسند کہلوانا پسند کرتے ۔۔ ان کے مطابق ہم تک غلط تاریخ پہنچوائی گئی ، ۔۔ یہ خود بڑے وطن پرست ہیں۔ اپنے ہندوستانی ہونے پہ فخر کرتے ہیں۔ ۔ تبھی بڑی شان کے ساتھ " راجہ داہر کو اپنا بہادر چاچو تسلیم کرتے ہیں اور محمد بن قاسم کو عربی لٹیرا جو ہندوستان میں دولت اور کنیزیں لوٹنے آیا تھا ۔۔ وہ بحث تو ابھی جاری تھی کہ ان کا ایک نیا اعتراض آیا کہ ڈرامہ سیریل ارتغل غازی پی ٹی وی ہوم پہ کیوں لگایا گیا ، یہ ہماری تاریخ سے زیادتی ہے ۔۔۔کسی نے کہا " یہ مقامی فنکاروں کے ساتھ زیادتی ہے " کسی نے کہا ترک قوم پرست تھے ، یہ ہمیں ہندوستانی ہونے سے دور لے جا رہا کسی نے کہا تب انھوں نے ٹیپو سلطان کی مدد کیوں نہیں ؟؟ بہرحال بے حد سوال اٹھے ، بہت سے لوگ ( وہی راجہ داہر کے فین ) کا مطالبہ ہے کہ اسے پی ٹی وی ہوم سے بند کیا جائے ہمارے بچے خراب ہو رہے ۔۔۔۔ یہ لنڈے کے لبرل پھر سے ڈرنے لگے کہ یہ قوم اس ڈرامے سے اپنی روایات نہ سیکھ لے ، یہ جہاد کی اہمیت نہ سمجھ لے ، تبھی انھوں نے اس ترک قوم سے جوڑ دیا ۔۔ انھیں پتہ چل گیا جیسے کردوغلو پکڑا گیا یہ قوم کے غدار بھی نہ پکڑے جائیں ۔۔۔ بہرحال بے تکے اور انتھائی فضول قسم کے اعتراضات اٹھے ، وہ جو گیمز آف تھرون پہ کبھی نہ اٹھے ، وہ جو کبھی کسی ہندی مووی پہ نہ اٹھے ، ۔۔ کیوں ؟ کیوں کہ وہ تو ان کے بہادر چاچو راجہ داہر کے خاندان کی ہیں نا انھوں نے بنائی وہ ہماری روایات کے عین مطابق جو ہوتی ہیں ۔ ۔۔ اوہ بھائی محمد بن قاسم ہو یا عثمانی سلطنت سب مسلمان تو تھے نا ، اور مسلمان چاہے جتنے ملکوں پہ تقسیم ہو جائے ہمیشہ سب اہم رشتہ دین کا رہتا ۔۔ اب دوسری طرف آتے ، ایک گروپ وہ بھی ہے جو " ڈرامہ غازی ارتغل " کو دیکھنا مذہبی لحاظ سے نیکی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ، وہ اسے ایک انتھائی نیک کام تسلیم کر رہے اور کروا رہے ۔۔ سب سے اہم تو یہ بھی ایک ڈرامہ ہے جس کا اسلام کے لحاظ سے کوئی جواز نہیں اس کے فنکاروں نے پورے پیسے لیے ہونے ہیں ، وہ بھی ادا کار ہیں جو کئی دوسری فلمیں بنا چکے ہیں ،، اس میں بھی میوزک ہے ، اس میں عورت اور مرد کا میل جول ہے ، ۔۔ لیکن بات یہ ہے کہ " دوسرے سیزن اور موویز کی نسبت بہت اچھا ہے۔ ،وہ کہتے نا بڑے گناہ سے چھوٹے گناہ کی طرف آنا ہے " ایک وہ گناہ جو فضول تھے ، جو عقل کی تباہی تھے ، جو فہاشی اور عریانی پھیلا رہے تھے لیکن یہ گناہ آپ کو اپنی تہذیب سیکھا رہا ، آپ کو اپنی کامیابی کے قصے سنا رہا کہ کیسے جہاد سے مسلمان سپر پاور بنے ، کیسے اپنے چھپے غداروں نے اسے نقصان پہنچایا ہے ، کیسے اتنے سال دنیا کی مضبوط ترین اسلامی ریاست بنی رہی ۔ کیسے مسلمان بے خوف اصول پرست تھے ، کیسے ان کیلئے مذہب اہم تھا وہ کبھی سلجوک یا ترک نہیں بنے بلکہ ہمیشہ جب بھی ضرورت پڑی اکھٹے لڑے ۔۔ کیسے سادگی ان کا شیوہ تھی ۔۔ کیسے غداروں کے ساتھ نمبٹتے تھے ۔۔ اس بات سے ہٹ کے ، یہ بھی ایک سیزن ہے جس کا مقصد پیسہ کمانا ہے لیکن ان راجہ داہر والوں کو یہ نہیں قبول کیوں ؟؟ کیوں کا جواب یہی چند باتیں جو آہستہ آہستہ ان کے ذہنوں میں بھری ہیں۔ ۔۔ ان کے آہستہ اپنی تاریخ سے نفرت اور قوم پرستی سیکھائی گئی ، اب ہم مسلمان نہیں ہندوستانی اور عربی لٹیرے بنے ہوئے۔۔۔ اور ایک گروپ ، اس ڈرامے کے کرداروں کی ذاتی زندگی والی تصاویر کو لے اس ڈرامے کو متنازع بنا رہا ۔۔ اوہ بھئی وہ ایکٹر ہیں ۔۔ انھوں نے اپنے کام کے پیسے لیے ، آپ نے سبق لینا ہے ۔۔۔وہ لیں ،آپ یہ سیکھیں ۔۔۔ اور جائیں ، حلیمہ سلطان کو دیکھ دیکھ رالیں ٹپکانے والوں کو جب کچھ نہیں ملتا انسٹا سے اس کی کوئی بولڈ تصویر اٹھا کے کہتے ، " الباکستانیوں کی امی " اوہ بھئی ہمیں پتہ تم پاکستانی نہیں ہو ، تم تو بچپن سے انگریز ہو، تم کہاں پاکستانی ہونا قبول کرتے۔ ۔۔ تم قبول کرو گے تو راجہ داہر کے اکلوتے قبول کرو گے ۔۔ اوہ جاؤ ۔۔ اللہ تمھیں بھی تمھارے راجہ داہر جیسا بہادر بنائے ، ہم محمد بن قاسم جیسے لٹیرے ہی ٹھیک ہیں ، ۔۔۔ نوٹ : آج راجہ داہر کا کوئی وارث اٹھا تو اسے محمد بن قاسم جیسا مناسب جواب دیا جائے گا ) پھر نا کہنا ہمارے ساتھ زیادتی ہوتی آ ریے اور آج بھی ہوئی اور آخر میں یہ تیتش کی تصویر ۔۔ کیونکہ اس کے فین بھی پاکستان میں موجود ہوں گے ان کی دل جوئی کیلئے ۔۔۔ ✍️ عمیر بلوچ
No comments yet