چھونے کی حس سب سے مختلف ہوتی ہے ۔۔۔ جدا ہونے والوں کو ہم بس چھونے سے ترستے ہیں ۔۔۔ باقی سب میسر ہوتا ہے۔۔۔ ان کی تصاویر بھی ہوتی ہیں۔۔۔ ان کی آواز بھی ہوتی ہے ۔۔۔ وہ ہمارے سامنے ویڈیوز میں چلتے بھی دیکھائی دیتے ہیں ۔۔ ان کی ڈھیر ساری باتیں بھی مجود ہوتی ہیں۔۔۔ بس ہم انھیں چھو نہیں سکتے ۔۔۔ ہم شدتوں سے چاہتے ہیں اب ہم کو گلے لگائیں ۔۔۔ ان کے ہاتھ پکڑیں ۔۔۔ ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ۔۔۔ لیکن چھونے کی حس ابھی میسر نہیں آ سکی ۔۔۔ اور شاید کبھی نہ آسکے۔۔۔ مرنے والوں کو بس چھو نہیں سکیں گے ۔۔۔ یہی سب سے گہرا احساس ہے۔۔۔۔ان کا وجود ہم سے صدیوں دور چلا جاتا ہے ۔۔۔ ہم عمر بھر ان کو چھونے کو ترستے رہتے ہیں ۔۔۔۔باقی تو ویڈیوز میں ہمارے سامنے چلتے پھرتے باتیں کرتے میسر ہو سکتے ہیں ۔۔۔ بس ان کی لمس کی حرارت محسوس نہیں کر سکتے ۔۔۔ اس لیے میں سوچتا ہوں چھونے کی حس سب سے گہری اور الگ ہے۔۔۔۔ یہ جو سینے سے لگانا ہے یہ بڑے گہرے جذبات اور احساسات لیے ہوا ہے ۔۔۔ سائیکالوجی بھی کہتی ہے ہر انسان کو صحت مند رہنے کیلئے روزانہ کے چھ ہگز ( گلے لگنا ) چاہیے ہوتے ہیں اپنے پیاروں کے ۔۔۔ انسان ترس جاتا ہے۔۔۔۔ کچا پڑ جاتا ہے۔۔۔ ضبط جواب دے جاتے ہیں صرف ایک اپنے کے نہ چھونے سے۔۔۔ ایک وقت تک ہم برداشت کر سکتے ہیں ۔۔۔ جب کبھی آپ کسی کو گلے ملو اور وہ شدت سے آپ کو دبا رہا ہو مطلب وہ آپ کیلئے بہت شدت سے ترس رہا تھا ۔۔۔جب کبھی عرصے بعد ابا سے ملاقات ہوتی تو سینے سے لگتے ہیں تو سالوں کی تھکاوٹ اتر جاتی ہے جیسے ۔۔۔۔ یا اللہ پاک اس سینے کو میرے لیے ہمیشہ میسر رکھنا۔۔۔ ✍️ " عمیر "
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet