read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

Recieved in inbox Thank you Doctors "میرا رب میرے بیٹے کو رحیم جیسا بنائے" میری شادی کو 5 سال ھوگئے رب نے اب اولاد کی نعمت سے نوازا بیگم کی ڈلیوری کےلئے سب سے مہنگے پرائیویٹ ہسپتال کا انتخاب کیا اور مقررہ بتائی ھوئی تاریخ کو داخل ھوگئے بیگم کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا میں باہر رب کے حضور دعائیں نوافل ادا کرنے لگا کچھ گھنٹوں بعد آواز آئی مسز مجید کے ساتھ کون ھے جی جی میں (کانپتی آواز میں کہا) مجھے آپریشن تھیٹر کے ساتھ بنے ایک کمرے میں لے آئے جہاں ڈاکٹر صاحب پہلے سے میرا انتظار شائید کررہے تھے انہوں نے مجھے سلام کیا اور مجھ سے مخاطب ھوئے مجید صاحب! اللہ پاک نے آپ کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ھے ابھی فوری اس کو بچوں کے ماہر ڈاکٹر کے پاس لے جائیں بچے کا سانس نہی ٹھیک ایک لمحے کےلئے میرے پیروں تلے زمین نکل گئی پھر خود کو سنبھالا کہ مجھے اب خود کو بیگم کو اور بچے کو سنبھالنا ھے جی جی ڈاکٹر صاحب آپ کے پاس ایمبولینس تو ھوگی نا ڈاکٹر جی مجید صاحب ایمبولینس بھی ھے اور ہمارا عملہ بھی ساتھ جائے گا میں نے فوری ماں جی کو فون ملایا جو باہر ہی دادو اماں بننے کی خوشی منانے اور مٹھائی بانٹنے کےلئے تیار بیٹھی تھیں اماں! اللہ پاک نے آپ کو پوتا دیا ھے مگر ساتھ آزمائش بھی ، ڈاکٹر کہتے بچے کو سانس کا مسئلہ فوری بچے کو کسی ماہر بچوں کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اماں میں نیچے آرہا ایمبولینس تیار ھے آپ بھی تیار رہو اور چھوٹی کو اس کی بھابھی کے پاس یہاں چھوڑ دیں بچے کو ایمبولینس شفٹ کیا گیا میں اور اماں جی اور ہسپتال کا عملہ ساتھ بیٹھ گیا ہسپتال کا عملہ مجھ سے مخاطب ھوا مجید صاحب: بچے کو کس ہسپتال شفٹ کرنا ھے آپ چلیں وہ میں بتاتا بتاتا میرا سانس پھولا ھوا تھا اور مختلف نمبرز فون سے ملائے جارہا تھا میں اپنے دوست شکیل کو کال کی یار شکیل رب نے 5 سال بعد اولاد بھی دی ھے اور آزمائش بھی بتاؤ آپ کے بھتیجے کو کہاں چیک کرانا شکیل نے مجھے حوصلہ دیا اور چلڈرن ہسپتال لاہور پہنچنے کا کہا میں نے ایمبولینس ڈرائیور کو فوری چلڈرن ہسپتال کی طرف مڑنے کا کہا راستے میں گزرنے والا ایک ایک پل مجھ پر قیامت گزر رہا تھا ماں جی مسلسل آنکھوں میں آنسو لئے تسبیح کے ورد میں مصروف اور تسبیح پڑھ پڑھ کر پوتے پر پھونک مارتی جارہی تھیں کوئی 30 منٹ بعد ھم چلڈرن ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچ گئے آکسیجن سلینڈر کے ساتھ نومولود بچوں کی ایمرجنسی شفٹ کیا گیا وہاں پر ایک میل اور ایک لیڈی ڈاکٹر نے فوری بچے کا معائنہ شروع کیا میں بھی ساتھ کھڑا تھا ڈاکٹر صاحب میرا بچہ ٹھیک تو ھے نا میں نے ڈاکٹر کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے وہ ضبط کا بھرم جو میں سارے راستے رکھ کر آیا تھا ٹوٹ چکا تھا میری آنکھوں میں آنسو تھے اور ڈاکٹر کی منتیں ڈاکٹر صاحب نے نہایت پیار سے سمجھایا اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا کہا ساتھ ہی ایک ورکر کو بلایا کہ ان کو باہر بٹھا دیں اور پانی پلائیں میں سامنے بیٹھ گیا ڈاکٹر نے معائنہ کیا پھر نالیاں ڈال کر معدہ اور سانس کی نالی صاف کی یا اللہ ! اتنی چھوٹے بچے کے ساتھ پہلے دن ہی یہ مشکلات اس کو دیکھنی پڑ رہی ہیں دو سے تین گھنٹے مسلسل میرے بچے پر ڈاکٹر اور سٹاف نے لگائے اب میں نے بیٹے کو حرکت کرتے اور ٹانگیں ہلاتے دیکھا مجھ سے نا رہا گیا سر میں اندر آسکتا میں نے ڈاکٹر سے پوچھا جی آجائیں میں اپنے بچے کے پاس پہنچ گیا دیکھیں آپ کے بچے کے معدہ اور سانس کی نالی میں پانی چلا گیا تھا وہ ھم نے صاف کردیا اب بہتر ھے داخل کرلیا ایک دو دن میں ٹھیک ھوجانا انشاء اللہ اب میرے بیٹے کے اس دوران رونے کی آوازیں بھی آنا شروع ھوگئیں اور ان رونے کی آوازوں نے میرے دل کے اندر ایک سکون پیدا کردیا میرے بیٹے کو آکسیجن لگا کر اور مشین لگا کر مسلسل دل کی دھڑکن اور صاف ھوا کی مقدار کو مانیٹر کیا جانے لگا اور اب میں اور ماں جی باہر انتظار گاہ میں بیٹھے رہے اس دوران میں نے اپنے محسن ڈاکٹر کا نام ورکر سے پوچھ لیا یہ "ڈاکٹر رحیم" ہیں ہمارے انتہائی قابل اور محنتی ڈاکٹر ورکر کے الفاظ تھے وہ نا بھی بتاتے یہ تو میں اپنے آنکھوں سے دیکھ چکا تھا ساری رات سردی میں کیسے بغیر ماتھے پر بل لائے نا صرف نومولود بچوں کا علاج کررہے تھے بلکہ ان کے ساتھ آنے والوں کو بیماری کے متعلق اور ممکنہ علاج کے بارے نہائت خندہ پیشانی سے بتا رہے تھے صبح میرے بچے کو 7 بجے وارڈ شفٹ کرنے لگے میں اس دوران اپنے محسن ڈاکٹر رحیم کو ڈھونڈنے لگا وورکر سے پوچھا کہتے سر نے ابھی دوائی منگوائی تھی اور کھائی تھی بخار اور سر درد کی شائید ساتھ والے کمرے میں نا ھوں میں نے کمرے کا دروازہ کھولا سامنے میرا محسن ڈاکٹر صاحب سخت سردی میں ایک چادر اوڑھے آرام کررہے تھے میں نے اندر جانا مناسب نہی سمجھا کیونکہ ساری رات میں نے انہیں ایک ٹانگ پر کھڑے ھو کر بچوں کے علاج معالجہ میں مصروف دیکھا میں نے موبائل نکالا تصویر بنا لی محسن کی اور خود سے وعدہ کیا کہ جب میرا بیٹا ٹھیک ھوکر گھر چلا جائے گا میں اپنے محسن ڈاکٹر کو خراج تحسین پیش کروں گا میرا بچہ دو دن بعد ٹھیک ھوکر الحمد لله گھر آگیا ھمارے گھر میں 5 سال انتظار کے بعد رونق سی لگ گئی ھے میں اماں اور میری بیگم سارا دن بیٹے کے پاس پاس گھومتے رہتے کہ کب سوکر جاگے گا روئے گا اور ھم اٹھا کر سینے سے لگائیں گے روز دعائیں نکلتی ہیں ڈاکٹر رحیم اور ڈاکٹروں کےلئے جن کی وجہ سے آج ھمارے گھر کی رونقیں لوٹ آئی ہیں میں نے بیٹے کے کان میں آزان دینے کے بعد کہا بیٹا بڑا ھوکر "ڈاکٹر رحیم" جیسا انسان بننا۔۔۔ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے عمیر قیصرانی 🌹❣️🌹۔

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.