read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

Must read once !!! وہ ایک بات میں نے پڑھی تھی کہ " ہمارے ہاں بیٹی کو بیٹا کہہ کے مضبوط کرنے کی کوشش ہی دراصل بیٹی کو کمزور کر دیتی ہے جب اس کو بیٹا بنایا جاتا۔۔۔ جب اس کے سامنے اسے بیٹا سے مشابہت دی جاتی تو مطلب اس کے ذہن میں یہ بات ڈالی جا رہی ہوتی کہ بیٹا بہت بڑی چیز ہے اور تم ہمارے بیٹے جیسی ہو " بیٹی ہونا اس کیلئے کمزوری کی علامت بنا دیا جاتا ۔۔۔ ہر شخص ہی عورت کو چاہتا ہے سوائے اپنی اولاد کی صورت میں ۔۔۔۔ تیسری بیٹی پہ تو باقاعدہ سوگ منایا جاتا ہے۔۔۔ باپ لڑکھ جاتے ہیں ۔۔۔ لوگ تعزیت کیلئے آتے ہیں ۔۔۔ جتنا کوئی مرضی فیمنسٹ ہو اپنے گھر صرف بیٹیاں نہیں چاہتا ۔۔۔ ہمارے معاشرے نے ابھی تک عورت کو قبول نہیں کیا ۔۔۔ یقین مانو نہیں کیا۔۔۔۔ اب زندہ دفن کرنے کا رواج نہیں رہا بے شک لیکن بیٹیاں آج بھی درگور ہی ہوتی ہیں ، لیکن زندہ نہیں ۔۔ ہاں اب انھیں پہلے مارا جاتا ہے۔۔۔ اگر بیٹی قبول کرتا ہمارا معاشرہ تو کبھی اس کو بیٹے سے تشبیہ نہ دی جاتی۔۔۔ اب ہو گئی ہے تو بیٹی کی صورت میں قبول کر لو۔۔۔ عورت کی عزت نہیں ہے ہمارے ہاں ۔۔۔ رکیے !! اگر آپ چوکوں چوراہوں میں بڑے بڑے سائن بورڈ پہ نیم برہنہ عورت کی تصویر لگا کے اسے عزت سمجھتے تو آپ غلط ہیں ، ۔۔۔ پہلے عورت مصر کے بازاروں میں بکتی تھی تو آج بھی اس کے ریٹ لگتے ہیں ، فقط دس روپے کے بسکٹ کی تشہیر میں تم دس لڑکیاں نچاتے ہو تو تم اسی دور میں جی رہے ہو ۔۔۔ ہاں اب ذہن سازی ایسی کر دی گئی کہ اسے غلط نہیں سمجھا جاتا ۔۔۔ اب بکنے والی عورت طوائف نہیں ماڈل کہلاتی ہے ۔۔۔ ایسی سوچ کا جال بچھایا ہے کہ معاشرے میں ایسی عورتوں کو بہت مقام دیا جاتا ، ۔۔۔ لیکن پیچھے وہی غلامانہ سوچ ہے۔۔۔۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ " پورا معاشرہ رکتا ہی وہیں ہے جہاں عورت کا تذکرہ ہو ، اس کی نظر ٹھہرتی ہی وہیں ہے جہاں نیم برہنہ عورت دیکھائی دے ، اس لیے چوکوں سے لے کر سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ایڈز تک ہم نے ہر جگہ عورت کو استعمال کیا " ہم نے اسے اٹرکشن اور اٹیشن مٹیریل بنا کے رکھ دیا ۔۔ تو سب کو پتہ ہے چوک میں نیم برہنا عورت کی تصویر کو سب کس نظر سے دیکھتے ہیں ، ۔۔۔ اگر تمھارے عقائد کا تعلق اسلام سے ہے تو پھر تو کوئی جواز بنتا ہی نہیں ، ماں کے قدموں تلے جنت ، بیٹی رحمت اور بہن شان ہے وہاں۔۔۔ لیکن اگر تم دنیا دار مسلم ہو پھر بھی آزاد خیال نہیں ، گری سوچ کے مالک ہو ۔۔۔ عورت کو عزت دو لٹکاؤ نہیں " ۔۔ " عمیر قیصرانی" #SubForMore

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.