ذرا سوچئے !!!!!۔ اپنی زندگیوں کا بہترین اور انرجیٹک پارٹ اٹھارہ سے چوبیس ، بہت سارے لوگ ڈپریشن ، انزائٹی اور مایوسی میں گزار دیتے ہیں۔۔ انھیں چھ سالوں نے ،ہمارے مستقبل کا تعین کرنا ہوتا، عمر کا یہی حصہ انرجی سے بھرپور ہوتا ہے ، ہماری صلاحیتیوں کے بہترین استعمال کا دور جو ہم میں سے بہت سارے لوگ مایوسی میں گزار رہے ہوتے۔۔۔اپنی صلاحیتیں اور انرجیاں ضائع کر رہے ہوتے ہیں، ۔۔۔ مایوسی کیا ؟؟ لوگوں سے جڑی امیدیں پوری نہ ہونے کی مایوسی۔۔۔ وقتی لذتوں کی خاطر، عمر بھر کے خسارے مول لے رہے ہوتے ہیں۔ کسی نے محبتوں کے روگ پال رکھے ہوتے ہیں، تو کوئی ان چیزوں میں وقت ضائع کر رہا جن چیزوں کی زندگی میں رتی بھر اہمیت نہ ہوگی۔۔۔انھیں باتوں پہ ہنسی آئے گی اسے چند سال بعد۔۔۔ اپنے ان غموں اور خواہشوں پہ خود ہی ہنس رہا ہوگا وہ۔۔۔ فرضی اور مصنوعی چیزیں اس عمر کا سب سے نقصان دہ سودہ ہیں۔۔۔ جن کا زندگی کے تلخ حقائق سے دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔۔۔ وہ بناوٹی ہوتی ۔۔ جو وقتی ہوتی۔۔۔ جو بس ہمارا وقت اور انرجیاں تباہ کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔ یہ چھ سال ہماری زندگیوں میں بڑی کریٹیکل ہوتے ہیں۔۔۔ان سالوں کے ابتدائی عرصے میں دنیا اور زندگی ہمیں سہانی دیکھائی جا رہی ہوتی ۔حقائق اور تلخیوں کے تذکرے ہم سے گریزاں ہوتے ہیں۔۔۔ دنیا تقریبا آپ پہ مہربان ہوگی ان سالوں کی ابتدا میں ۔۔ آپ کو لگے گا ہرکوئی نثار آپ پہ۔۔۔ زندگی ایسے ہی آسان ہے اور رہے گی۔۔ لیکن ہر غلط فیصلے، ان اہم سالوں کے ہر گزرے سال کے بعد آپ کو تلخ چیزیں نظر آنا شروع ہو جائیں گی۔۔۔ لوگ دور جاتے دیکھائی دیں گے اور آپ زندگیوں کی تلخیوں اور حقائق میں خود کو تنھا ہوتا محسوس کریں گے۔۔۔ لیکن اس وقت تک ، بہت کچھ ہاتھ سے جا چکا ہوگا ۔۔ لیکن سب کچھ پھر بھی نہیں ۔۔ ہاں آپ نے کم محنت سے زیادہ پانے کا وقت نکال دیا ہوگا۔۔۔ اب زیادہ محنت سے کم پانے پہ گزارہ کرنا ہوگا۔۔۔ اب عمر میں بہت ساری چیزیں پانے کیلئے تمھیں زور لگانا ہوگا۔۔۔ عمر کے اس کریٹیکل دور میں والدین کی مانیں۔۔۔ ان کے تجربات سے فائدہ لیں ۔۔۔ میں نے زندگی بہت کم چیزوں پہ ، بہت کم فیصلوں پہ پچھتایا ہوں ، سوائے ان کے جو ابا کی بات نہ مان کے کیے۔۔۔ میں نے ہر اس بات میں اپنے لیے فائدہ محسوس کیا جو کسی دور میں مجھے جنریشن گیپ کا اثر لگتی تھی۔۔۔ میں نے ان کی ہر اس بات کو سچ پایا جو کسی دور میں مجھے محض ان کا وہم لگتی تھی۔۔۔ میں نے ان کی بہت ساری پیشنگوئیاں سچ پائی۔۔۔اس لیے اس وقت ان سالوں میں اپنے فیصلوں کو اپنے والدین کی نصیحتوں کے زیر اہتمام ترتیب دینے کی کوشش کریں۔۔۔ اپنے بہترین مخلص لوگوں کو پہچانیں ، یقین مانیں والدین سے بڑھ کے کوئی آپ کا ہمدرد نہیں ۔۔۔ ✍️ " عمیر بلوچ
No comments yet