read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

شاید ساری عمر اس تکلیف میں گزار دیتی کہ وہ رکا کیوں نہیں. کیوں نہیں ٹھرا میرے پاس اگر یہ سمجھ نہ آتی ی کہ میں اسکا گھر نہیں تھی. وہ دیس دیس کا پانی پیتا وہ پرندہ تھا جسکا گھر کہی اور تھا میری دنیا اور سوچ سے کہی بہت دور. وہ میرے پاس رکنے کی نیت سے آیا نہیں تھا آیا ہوتا تو رک بھی جاتا. ! مگر وہ کسی اور جگہ سے تعلق رکھتا تھا. اسکا سکون خوشی گھر سب کچھ کہی اور تھا. تو میرے پاس وہ کیوں ٹھرتا. اور اگر ٹھرا نہیں تو اسکے واپس آنے کا تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا. واپس تو ہم گھر کو جاتے ہیں. ہم سب گھوم کے واپس واہاں جاتے ہے جہاں ہمیں سکون میسر ہو. یہ سب نہ سمجھتی تو اسے باغی ہی سمجھتی رہتی ساری عمر. Noone is betraying you its just the matter of fact that you are not a home to them that's why they leave. One who find his home in you will never leave. I promise.

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.