read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

Diary Of A Medical Student Day #12 , 13 چلو ہم چھوڑ دیتے ہیں انہی کے حال پہ انکو ۔ کبھی تو وہ بھی پوچھیں گے تم کو کیا ہوا آخر کل کے دن ڈائری نہیں لکھی تھی کیونکہ کوئی خاص بات تھی ہی نہیں ۔ سارا دن ویلا پھرتا رہا ۔ کچھ پبجی کھیلی تو کچھ بورنگ دن گزارا لیکن آج کے دن تھوڑا انٹرسٹنگ گزرا سو آپکو بتائے دیتا ہوں ۔ ہماری صبح دن کے 1 بجے ہوئی۔ ابھی ہاتھ منہ بھی نہیں دھویا کہ ابو جی کی کال آ گئی کہ تھانے چکر لگایا کہ نہیں ۔ میں نے کہا کہ اج جانا ہے۔ تو خیر جلدی جانے کی تلقین کر کے رابطہ ختم کیا۔ اٹھتے ہی نہانے چلا گیا کہ فریش ہو جاؤں گا۔ پھر سوچا تھانے چکر لگا ہی آتا ہوں ۔ خیر دوست سے بائیک لی لیکن بائیک کی کنڈیشن نے ہی مجھے شک میں ڈال دیا کہ مجھے چور سمجھ کے اندر نہ ڈال دیں ۔ اس کا نہ تو میٹر تھا نہ ہی بریک اور نہ ہی ٹیکی ۔ بس وہ چل رہی تھی اس کے لئے بہت تھا ۔ خیر مجھے تھانے کہ پتہ ہی نہیں تھا ۔ لیکن نشتر کے ساتھ ہی جیل تھی میں نے سوچا یہاں کا ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بھائی یہ تو جیل ہے تھانا نہیں ہے ۔ آپ کچہری چلے جاؤ وہاں سے رپورٹ درج ہو گی ۔ راستے میں ہی پولیس چوکی تھی تو ان سے دریافت کیا کہ پولیس سٹیشن کہاں ہے جو کچہری والا ہے ۔ بولے کہ کیا کرنا ہے ۔ اتنے پولیس والے سامنے دیکھ کے میری تو پہلے ہی پھٹ رہی تھی اوپر سے اس نے اس طرز سے پوچھا کہ جو مجھے ڈرانے کے لئے کافی تھا ۔ پھر اس نے کہا کہ آپ کو پولیس سٹیشن کینٹ والا ہے وہاں سے رپورٹ درج کرواؤ۔ میں واپس ہو لیا اور کینٹ کی طرف روانہ ہو گیا لیکن ٹرن جو میں نے لینا تھا وہ کچہری کےاندر سے گزرتا تھا ۔ سو میں نے سوچا یہاں سے پتہ کرتا جاتا ہوں ۔ گارڈ کو آنے کا مدعا بتایا کہ میرا والٹ گم ہو گیا ہے اس میں میرا شناختی کارڈ تھا اس کی رپورٹ درج کروانا ۔ جناب شاید کچھ پی کے ںیٹھے تھے بولا کہ اچھا "شناختی کارڈ" دکھاؤ۔ میں نے بولا کہ جناب آپ نے سنا نہیں شاید میرا شناختی کارڈ گم ہو گیا ہے اسی کی رپورٹ درج کرانے آیا ہوں ۔ پہلے تو غصے سے دیکھا لیکن پپھر اجازت دیدی ۔ میں نے پوچھا کہ بائیک اندر کھڑی کر دوں اسکا لاک نہیں تھا ۔ جناب درشت لہجے میں بولے کہ اندر جگہ نظر آ رہی ہے کہاں کھڑی کرو گے ۔ آرام سے جاؤ اور رپورٹ درج کرواؤ میرا دماغ خراب نہ کرو۔ میرے زہن میں بار بار اک ہی بات گھوم رہی تھی کہ "پولیس والوں سے نہ دوستی اچھی نہ دشمنی" خیر میں اندر گیا لیکن سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ رپورٹ کہاں درج ہوتی ہے۔ سارے دروازے شیشے کے تھے سب لوگ مجھے اندر سے دیکھ رہے تھے لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کہاں جاؤں۔ بالآخر ہمت کی اور اند گھس گیا ۔ آنے کا مدعا بیان کیا ۔ جناب نے کہا کہ کینٹ جاؤ تمہارا تھانا وہی ہے ۔ لیکن اس نے پھر کہا کہ آپ نیا کارد بنوا لو آج کل رپورٹ درج کرنا ضروری نہیں ۔ نادرا والوں نے یہ شرط ختم کر دی ہے ۔ میں نے کنفرم کیا اور وہاں سے چل دیا کہ چلو اس رولے سے تو جان چھوٹی ۔واپس آیا تو دوست نے کہا کہ اے ٹی ایم چلنا ہے میرے ساتھ چل ۔ میں نے کہا کہ ابھی پورا ملتان گھوم کہ آ رہا ہوں ۔ وہ منتیں کرنے لگا تو اس کے ساتھ چل پڑا۔ واپس ہوسٹل آئے ہی تھے کہ مجھے یاد آیا کہ میرا تو پیکج ختم ہو گیا ہے آج ۔ خیر دوبارہ سے واپس مڑا اور پیکج کر کے واپس ہو لیا ۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے جناب سے بات کروں لیکن پھر اس کے انداز سے لگتا ہے میں اسے تنگ کرتا ہوں ۔ صبح صبح ہی اس کا دیدار ہو جاتا ہو تو اور کیا چاہئے ۔ ؟ کہتے ہیں نہ کہ "دیوانہ کیا چاہے بس دیدار یار " بس دن میں ایک میسج کرتا ہوں کہ طبیعت کیسی ہے وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے ۔ بس کوئی کام ہوتا ہے تو اس سے بات کر لیتا ہوں ۔اب اس کی کسی بات کو برا نہیں مناتا اور نہ ہی پوچھتا ہوں کیونکہ اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیا ہے اور دعا یہی کرتا ہوں کہ وہ خوش رہے اور ٹھیک رہے ۔ آخر میں اسے شعر کے ساتھ الوداع کہ حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں والسلام از قلم-عمیر بلوچ ✍️ مورخہ : 30مارچ 2021 10:40 P.M تصویر آج لی ہے۔ ہاں ہاں پتہ ہے پینٹ شرٹ پہننی ہوتی ہے۔ کل پہنونگا

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.