روٹ لیول پہ جب تک سوچ نہیں بدلے گئی یہی اوباش قسم کے نمائندے اسمبلیوں پہ راج کرتے رہیں گے۔۔۔۔ ہر شخص کو اپنی تربیت کی ضرورت ہے۔۔۔ ایک طبقہ اچھی تقریر کے فضائل گنوا رہا ہے اور دوسرا ووٹ خریدنے کو فتح ثابت کر رہا۔۔۔ اوباش طبقہ اسمبلی میں ہاتھا پائی میں مصروف ۔ ۔۔ گالیاں اور جوتے مارنے والے ہمارے قانون ساز ہیں جن کے ووٹر ہم خود ہیں ۔۔۔ تین سال گزر گئے ہم جیسے تبدیلی کے منتظر ، بس منتظر ہی رہے۔۔۔۔ اور رہیں گے یقینا۔۔۔ ہم خود کو بدلنے پہ یقین ہی نہیں رکھتے ۔۔ مکمل سمجھتے ناں۔۔۔ تکلف ہی نہیں کیا کہ مجھ میں بہت کچھ ہے بدلنے کو اور اچھے کرنے کو۔۔۔ غریب عوام کا جینا حرام ہوا پڑا اور خان صاحب ایماندار ہیں اور کرپٹ کو چیر ڈالیں گے۔۔ اور وہ جو چار چار سال تک وزرا رہے ان کو دوبارہ لایا جائے۔۔؟؟ اوپر سے حکمران بدل لیں گے نیچے ٹولہ وہی رہے گا۔۔۔ شیخ رشید سے فواد چوہدری تک اور حفیظ شیخ سے شاہ محدود قریشی تک ۔۔۔ کوئی پی ایچ ڈی سکالر ، یا دین دار ، ماہر سیاسیات ، اعلی قانون دان اسمبلی میں پہنچ کے دیکھائے ؟؟ بھیجنے والوں کی سوچ کا قصور ہے نا ۔۔مجرم ہم بھی ہیں نا ؟؟ وہی بی اے پاس۔۔۔ تعلیم کو چھوڑیں چلو مان لیا تعلیم کا اقدار سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔ پریکٹیکل اور ایماندار لوگ ؟ آج اسمبلی کے باہر ہاتھا پائی اور لڑائی دیکھ کے آپ محلے کی عورتوں کی لڑائی یاد آ جائے گی۔۔۔ خان صاحب کی محنت ہوگی ، لیکن ساتھ جڑے لوگ ؟؟ وہی گالیاں دینے والے۔۔۔وہی کرپٹ سیاست کے چولے۔۔۔ وہی اصول وہی سب پرانا ہے۔۔۔ اور واقعی مان لیں عمران خان میں وہ ہمت نہیں جو ایک مضبوط سیاست دان میں ہونئ چاہیے۔۔۔ یہاں جسے ہاتھ پا کے دیکھ لیں وہی عمران خان اور نواز شریف سے کم نہیں ہے۔۔۔ یقین مانیں آپ کو وہ اچھے لگیں گے ۔۔۔ جس کے نیچے کرسی آ جائے وہی خود کو خدا سمجھتا ہے۔۔۔اور دوسرے لوگ اور ان کی سوچ اس کیلئے گلی کا کم تر کیڑا ہوتی ہے۔۔۔ اسے اپنا علم مکمل اور اپنے اختیار خدائی محسوس ہوتے۔۔۔ پھر وہی کہتا ہوں ، سوچ بدلنے کا وقت ہے۔۔۔اپنی ذات کو بدلنے کا وقت ہے۔۔۔ اپنے اوپر محنت کریں ۔۔۔ آپ کی کائنات بدل دی جائے گی۔۔۔ ✍️ " عمیر"
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet