#خاموش_شامیں ہمیشہ سے ہی ایسے دھندلے گہرے موسم میری کمزوری رہے ہیں۔۔ ہلکی پرسکون ٹھنڈی ہوا ، تھوڑی سی دھند، گیلی سڑکیں ،شام سے تھوڑا پہلے ، تھوڑا بعد میں اور اکیلا میں ، دل کرتا یہ لمحات روک لوں۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ؟؟ وہ لمبی سڑک ، وہ دھند میں گیلا ایس ایم سی ، وہ سامنے رفیدہ ہال ، وہ کیٹین کی طرف جاتے جونیئرز ، وہ ہوسٹل کو لوٹتی شال اوڑھے لڑکیاں ، اور سب سے اہم میری کیرانا پہاڑی جو آج ہلکی سی نظر آ رہی ، سب کتنا خاص ہے ، ۔۔۔ اس موسم میں ہر چیز خاموش ہوتی جیسی ، پرندے ، درخت ،یہاں تک کہ شام کے پرندے بھی ۔۔۔ وہ سامنے چاچا سیکورٹی گارڈ آگ جلائے بیٹھا ہے ۔۔۔ ایسے موسم میں کانوں میں ہینڈ فری لگا کے اپنی موج میں مست رہنے کا الگ ہی مزہ ہے ۔۔ ایسے موسم میں مجھے اپنی ذات سے جیسے رابطے کا موقع ملتا ہے ، میں اپنے سے باتیں کرتا ہوں، اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہوں ، شاید اسی لیے ، یہ موسم میرا پسندیدہ یے ، ایسے موسم میں ان سڑکوں پہ اپنے آپ کو ضرور ٹائم دیا کریں، اپنے مسائل اپنی ذات سے شئیر کیا کریں ، اپنے آپ کو حوصلے دیا کریں، ۔۔کبھی چائے کا کپ تھام کے تو کبھی ویران کیمپس کی سڑکوں پہ۔۔۔ صرف اپنی ذات کی سنا کریں ، اس کی باتیں ، گلے شکوے ، شکاتیں سب ، جو لوگوں سے یا اپنی ذات سے ہیں ، ۔۔۔ اپنی گزری زندگی پہ ایک نظر کیا کریں ، پچھتاووں کو سائیڈ پہ رکھ کے ، منہ سے گرم دھواں نکال کے ، ۔۔ ان دھندلی شاموں میں اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کیا کریں ، ۔۔ اپنے آپ کو وہ باتیں بتایا کریں جو آج تک آپ کسی کو نہیں بتا سکے ، خود سے وہ باتیں شئیر کیا کریں،بوجھ ہلکا ہوگا ۔۔۔ اردگرد کے نظاروں کو غور سے دیکھا کریں، بس یہاں تک کہ نظارے دھندلے سے غائب ہونا شروع ہو جائیں ، اپنے چادر کو پھر سے زور سے لپیٹ کے اپنے روم میں واپس جاتے ہوئے ، نئی یادیں لے کے یہ حسین نظارے لے کے ، ، اپنے سے کی باتیں لے کے ،پچھتاوے وہی چھوڑ کے، گلے شکوے نکال کے انھیں سڑکوں پہ پھینک کے ، ، بس ہلکی پھلکی اپنی ذات لے کے ، یا کینٹین سے ایک کپ چائے لے کے ، ، اگلی ایسی کسی شام کے انتظار میں ، ۔۔۔ اپنے روم واپس چلے جایا کریں۔۔۔ "عمیر قیصرانی" Sub For More 🌹
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet