آج کی تحریر !!!۔ ماں کی ممتا !! ۔ "سنیں جی ، کچھ کریں ۔ مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے" بخار سے تڑپتے اور بلبلاتے 6 ماہ کے بیٹے کو سینے سے لگائے وہ اپنے خاوند سے التجا و آہ ہ زاری کر رہی تھی ۔ کبھی بیٹے کی ماتھا چومتی تو کبھی اس کا سر پہ ہاتھ پھیرتی۔ "کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ ہر طرف سے کوشش کی لیکن کہیں سے بھی ادھار نہیں ملا " خاوند جو بیچارہ چھوٹی سی سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا ، دن کا مشکل سے 100 200 کما لیتا تھا ،اب دو دن سے اس کا سامان بکا ہی نہیں تو بیٹے کے علاج کے لئے پیسے کہاں سے لاتا ۔ "میرے پاس صرف یہی رہنے کو ایک گھر ہے اور یہی چھت ہے بس اور کچھ بھی نہیں " ماں جسے اپنے بیٹے کو بچانے کوئی کی امید نظر ائی تو فوراً سے چلا اٹھی ، "بیچ دو ، سب کچھ بیچ دو لیکن میرے بیٹے کو بچا لو ، ہم رہ لیں گے کسی طرح گزارہ کر لینگے " خاوند یہ کہہ کر گھر سے نکل پڑا "اچھا دیکھتے ہیں" تیس سال بعد !!!!۔ ایک ہفتے سے اس کو بخار تھا اور درد سے چلا رہی تھی۔ اس کا خاوند اس کے پاس بیٹھا نہ جانے کیا کیا تسلیاں دے رہا تھا ۔ کبھی بیوی کی طرف نا امیدی سے دیکھتا تو کبھی التجائی نظروں سے ساتھ کھڑے بیٹے کو ۔ "بیٹا تمہاری ماں ہفتے سے بیمار ہے ۔ اس کے علاج کے لئے کوئی بندوبست کرو" اپنے ہی بیٹے کو التجا کی جا رہی تھی بیٹا کبھی ٹال مٹول کرتا تو کبھی نظریں چرا لیتا ۔ تھوڑی سی غیرت آئی تو اٹھ کے کمرے میں بیوی کے پاس چلا گیا۔ کمرے سے بہو کے چیخنے کی آوازیں آ رہی تھی اور دونوں ماں باپ چپ سادھے سنے جا رہے تھے "تمہارے ماں باپ نے چھوڑا ہی کیا ہے تمہارے لئے ؟ ایک یہ بوسیدہ سا مکان ؟ ویسے بھی آج نہیں تو کل ان دونوں بڈھوں نے مر جانا ہے ۔ کیوں ان پہ پیسا خرچ کریں جو سرے سے ہے ہی نہیں" بیٹا بیچارہ مایوس کمرے سے نکلتا ہے اور سر جھکا کے بیٹھ جاتا ہے ۔ "بیٹا کہیں سے ادھار مانگ لو بعد میں چکا دیں گے " بیٹا دوبارہ کمرے میں جاتا ہے تو پھر سے وہی چلانے کی آواز " ادھار لو گے کس سے اور چکاؤ گے کیسے ؟ ہاں ؟ یہ دونوں تو ہیں ہی دو دن کے مہمان ، خوامخواہ میں ادھار گلے سے باندھ لو گے" بیٹا کچھ کہے بغیر دروازے کے طرف لپکتا ہے۔ ابھی دروازے کے قریب ہی پہنچا تھا کی باپ کی آواز آئی " رکو بیٹا ! اب کوئی فائدہ نہیں ، تمہاری ماں اس دنیا سے چل بسی ہے " !!!!! ۔ بستر مرگ پہ ہو کر بھی ماں سے بیٹے کی پریشانی نہیں دیکھی گئی اور موت کو خوشی سے گلے لگا لیا ۔ !!!۔ ✍️عمیر بلوچ
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet