5 March 2021 🥰تیرے نام یہ دن میری زندگی کا وہ دن تھا کہ شاید میں کبھی بھلا نہیں سکوں گا ۔اس دن میں نیند سے اٹھا تو اس کے میسج کا انتظار کرنے لگا تھا کیونکہ اس نے اسی ٹائم میسج کرنا ہوتا تھا تقریباً۔ خیر اس کا پہلا میسج ہی دل کا دورہ پڑنے کے لئے کافی تھا ۔ "باہر چلیں ؟" یہ وہ میسج تھا کہ برسوں سے میں اس میسج کے انتظار میں ہوں جیسے۔ خیر میں نے جھٹ سے ہاں بول دیا تو کہنے لگی کہ کہاں چلیں میں نے کہا کہ نشتر آ جاؤ ۔ کہتی ہے اچھا آ جاؤ !۔ مجھے اس دن کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا پہنوں ؟ ایسا کیا کروں کہ اسے پسند آ جاؤں پہلی ہی نظر میں ۔ آؤٹ فٹر سے لی ہوئی ایک کالی "بقول اس کے وہ نیلی تھی " ٹی شرٹ نکالی اور ایک کالی پینٹ پہنی۔ اسے کالا رنگ پسند تھا سو کوشش یہی تھی کہ ہر چیز کالے رنگ کی ہو ۔ اس دن اتنا ہوش بھی نہیں رہا تھا کہ پرفیوم بھی لگانا تھا اور جوتے کو کپڑا تک نہیں مارا ۔ راستے میں دیکھاتو جوتا خراب تھا خیر بھاگا بھاگا گیٹ کے پاس والے موچی سے برش لگوایا تو اس کی کال آ چکی تھی کہ میں تو پہنچ گئی تم کہاں ہو ۔ ؟میں بھی بھاگ کے پہنچا ادھر تو وہ سامنے ہی نظر آ رہی تھی مجھے۔ میں نے واٹس ایپ پہ ہی لکھ دیا کہ جہاں ہو وہی رک جاؤ۔ اس نے سیدھا میری طرف دیکھا تھا شاید کہتے ہیں نہ کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے والی بات سچ ثابت ہو رہی تھی ۔ وہ میرے پسندیدہ رنگ کا سوٹ پہن کے آئی تھی ۔ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ جب سے میں نے اس میں خوبصورتی دیکھنا شروع کی تھی تب سے لے کر اسکی ہر ادا ، ہر حصہ خوب صورت لگنے لگا تھا ۔ خیر ! ۔اس دن وہ بہت خوش تھی ۔ میں اس کو خوش دیکھ کے ہی پھولے نہ سما رہا تھا کیونکہ ہمیشہ رب سے ایک ہی تو دعا مانگی تھی اور وہ اس کی خوشی کی تھی۔ وہ صرف ایک گھنٹہ بیٹھی تھی میرے پاس لیکن سچ بتاؤں تو مجھے لگا صدیاں بیت گئی ہیں ۔ اس کی ہر ادا سے خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔ لگ رہا تھا وہ کسی اور دنیا میں ہے ۔ اس کی آنکھوں میں نظر آتی حیا ، اس کے گالوں پہ پھیلتی لالی ، اس کے مسکراتے ہونٹ اور میرے دیکھنے پہ اس کو شرما جانا سب کچھ آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو صبر نہیں ہو پاتا ۔ دل کرتا ہے اسی کے پاس پہنچ جاؤں اور بس اسے دیکھتا رہوں ۔ اس نے کہا کچھ آرڈر کرتے ہیں ۔ میں نے کہا کرو ۔ اس نے کہا کہ پیسے میں دونگی میں نے کہا ٹھیک ہے شوق پورا کر لینا اپنا۔ جب آرڈر آیا تو میں نے ہی پےمنٹ کی تو وہ لڑنے لگی تھی۔ میں نے کہا لڑ لو لیکن پیسے نہیں دینے دونگا ۔ خیر پیزا کھاتے کھاتے اس نے پوچھا کہ تمہارے حصے کا کھاؤں ، میں نے منع کر دیا 😔🥺 پھر میں نے اس کے حصے کا ایک پیس اٹھا کے کھا لیا ۔ وہ غصے سے دیکھ رہی تھی میں بولا کہ اگر اپنا سمجھتی ہو تو پوچھا نہی کرتے ۔ میں نے آخری پیس بچایا ہوا تھا کہ وہ میں اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گا اس کو۔ لیکن وہ شرما رہی تھی ۔ پھر میں نے بھی زور نہیں دیا ۔آخری پیس ذس نے پوچھا کہ تم نے نہیں کھانا تو میں کھا لوں ۔ میں نے خوشی سے اجازت دیدی اور میں بیان نہیں کر سکتا کہ مجھے اس کی اس ادا سے کتنی محبت اور خوشی ہوئی تھی ۔ پیزا کھانے کے بعد میں اسے دیکھتا کبھی تو کبھی نظریں چرا لیتا۔ اس سے نظریں مل ہی نہیں رہی تھیں میری اور وہ بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ ہاں ہاں تاڑ لو تاڑ لو 😂🤭 حالنکہ اس وقت سامنے والے روڈ پہ لڑکی تو کیا کوئی لڑکا بھی نہیں تھا بس اس سے نظریں ہی نہیں مل رہی تھی کوئی ایسا جادو تھا شاید ان آنکھوں میں ۔ ہم ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔ مجھے یہ شعر یاد آیا جو میں نے اسے سنایا بھی تھا یہ فخر تو حاصل ہے کہ برے ہیں کہ بھلے ہیں دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں ۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔ جیسے ہی وہ ہاتھ تھاما تھا تو اسی وقت عہد کیا تھا کہ اب اس ہاتھ کو چھوڑوں گا نہیں ۔ میں اس ہاتھ کو دل کے پاس لانا چاہتا تھا کیونکہ یہی دل ہی تو تھا جو بے چین رہتا تھا اس کی غیر موجودگی میں ۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے حسین لمحہ تھا ۔ پھر اس نے کہا کہ میں نے فروٹ بھی لینے ہیں لیکن دوسرے ہی لمحے کہہ دیا کہ نہیں کل لے لونگی ۔ وہ جانا نہیں چاہتی تھی جیسے میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس نے 7:30 پہ جانا تھا لیکن پھر کہا کہ 7:50 پہ جاؤں گی ۔ وہ بے چین ہو گئی تھی ۔ میری حالت اس سے بھی غیر ہو رہی تھی شاید لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ میری حالت اس پہ عیاں ہو۔ اسی لئے بار بار نظریں چرا رہا تھا میں لیکن سچی محبت ڈھونڈ ہی لیتی ہے ۔ اس نے مجھے کہا ادھر دیکھو میری طرف۔ وہ میری آنکھوں میں لڑھکتے آنسو بھانپ چکی تھی ۔ لیکن چپ کرنے کی بجائے کہا کہ رو لو میرے سامنے آج میں ہوں چپ کرانے کو کل کوئی نہیں ہوگا ؟ یہ بات سن کر ہی میرے ضبط کے بندھن ٹوٹ چکے تھے ۔ میں رونا چاہتا تھا لیکن اسے ایک ہی بات کہی کہ تمہارے سامنے نہیں رونا چاہتا بس تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں ۔ خیر مین نے بڑی مشکل سے سنبھالا خود کو اور 7:50 پہ روانہ کر دیا اس کو اور وہاں سے میں ہوسٹل تک کیسے آیا تھا مجھے خود نہیں پتہ کیونکہ آنکھیں تر تھیں آنسوؤں سے، لیکن بہانا نہیں چاہتا تھا ۔ ہوسٹل پہنچا تو پہلا مقام چھت تھی جس نے پتہ نہیں کتنی بار میری آنسوؤں کی ہمدرد رہی تھی ۔ شاید وہ چھت ہی گواہ ہے میری سچائی کی کہ میں جب بھی رویا تھا سچ میں رویا تھا !۔ لیکن اب بھی میں اس سے محبت نہیں کرتا ، میں جھوٹا ہوں ، وہ سب ڈھونگ تھا ڈرامہ تھا ۔ بس یہی التجا ہے کہ صاحب مجھے محبت سے چھٹکارا چاہئے مجھے محبت کرنا نہیں آیا 🙏🙏۔ اللہ نگہبان ۔ خوش رہو خوشیاں بانٹو ! ۔ میری دعائیں آپ سب کے ساتھ ہیں 🥰۔ طالب دعا عمیر بلوچ ✍️✍️
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet