Diary Of A Medical Student Day #9+10 اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے کل کے دن شام کو ڈائری لکھنے بیٹھا اور آدھی لکھی ہوئی تھی کہ تو جناب کا میسج آ گیا کہ جو بات کرنی ہے کر لو (کیونکہ میں نے اسے کہا ہوا تھا کہ شام کو بات کرنی ہے )تو جو لکھی ہوئی تھی وہ بھی مٹا دی ۔ اس کے بعد لکھنے کو دل ہی نہیں کیا اور پوسٹ کر دی تھی کہ دو دن کی ڈائیری اکٹھے لکھوں گا۔ خیر ! کل کا دن بہت مصروف گزرا تھا کیونکہ ڈی جی خان جانا تھا اور صبح ہی صبح پہنچ گئے ہم ۔ ۔ ابو کا کام آسان تھا تو آتے ہوئے یاد آیا کہ ایک منہ بولی بہن کا بھی رہتا ہے کام سو اس کو بھی پوچھا کہ کرنا ہے تو کرتا آؤں گا۔ اس نے واٹس ایپ کی اور میں نے اس کا کام بھی کر لیا ۔ غازی یونیورسٹی میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا کہ جناب آپکا ماسک نہیں ہے ۔ میں نے کہا کہ میں نیا ہوں ، نہیں پتہ مجھے کہ کہاں سے ملتا ہے یہاں ۔ میں خود ڈاکٹر ہوں احتیاط کر لونگا ۔ بولے کہ ہم نے آگے جواب دینا ہوتا ہے ، آپ کے ماتھے پہ تو نہیں لکھا ہوا کہ آپ ڈاکٹر ہو۔ خیر میں واپس مڑنے ہی لگا تھا کہ پاس کھڑی لڑکی جو یہ سب سن رہی تھی میری طرف بڑھی اور ماسک دیتے ہوئے کہا کہ بھائی آپ میرا لے لیں میں گھر جا رہی ہوں ۔ وہ مجھے جانتی تھی یا نہیں لیکن اس کی بے باکی پہ میں حیران رہ گیا تھا۔ میں نے لینے سے منع کر دیا اور کہا کہ میں لے لونگا بس یہ بتا دیں کہ ملتا کہاں سے ہے۔اس نے گیٹ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ پاس ہی ہے۔خیر غازی یونیورسٹی میں ، میں اپنا کام ختم کئے کھڑا تھا کہ جناب کا میسج آیا کہ میری بہن نے بھی آنا ہے تو میں نے بھی اسے آفر کی کہ آپ بھی آ جاؤ۔ کلاس چل رہی تھی اس کی تو اس نہ بول دی اور ہم نے بھی اصرار نہیں کیا۔وہاں سے سیدھا ہم گھر پہنچے اور قریباً 7 بجے اس سے بات شروع ہوئی اور 2 بجے تک جاری رہی ۔ میں نے اسے سب بات بتا دی تھی لیکن شاید وہ غلط سمجھی یا میں صحیح سمجھا نہیں پایا لیکن انجام یہی تھا کہ ایک غلط فہمی ضرور پروان چڑھ چکی ہے اور پتہ نہیں کب ختم ہونی ہے کہتے ہیں نہ کہ بے وفا تم تھے ، وقت تھا یا مقدر میرا بات اتنی ہے کہ انجام جدائی نکلا خیر اس نے 1 بجے کے قریب گڈ نائٹ کہا اور سو گئی لیکن میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی یا پھر کوئی پیغام تھا اس بے چینی میں کہ کچھ انہونی ہونے لگی ہے ۔ ابھی تک تو دل کو سنبھالے بیٹھے ہیں کہ جو ہو گا سہہ لیں گے لیکن جھوٹ کے سہارے رشتے نہیں چل سکتے تھے ۔ خیر رات کے 4 بجے جب مجھے تسلی ہو گئی کہ جناب سو گئے ہوں گے ، پھر بھی تسلی کے لئے میسج کیا کہ سو گئے ہو۔ ؟ میسج رسیو نہیں ہوا تھا اور نہ ہی سین ، مطلب یہی تھا کہ اب میں سو سکتا تھااور گڈ نائٹ کا کہہ کے میں بھی سو گیا۔ Day #10 ایک تو سارا دن سفر میں رہا تھا کل اپر سے 4 بجے سویا تھا تو دن کو اٹھنے کو دل ہی نہیں کر رہا تھا ۔ خیر 3 بجے خود پہ جبر کر کے اٹھا ۔ اور سارا دن بور ہی ہوتا رہا ۔ ایک دو بار بازار کا چکر لگا بس ۔ لیکن شام کے ٹائم احمد بھائی اور دیوداس کی لڑائی شروع ہو گئی ۔ دونوں ہی اپنی جگہ پہ ٹھیک تھے لیکن میں غلط تھا اپنی جگہ پہ 🤭🤣🤣بقول دیوداس کے ، میں ہی لڑائی کی جڑ تھا اور کہی حد تھا بات درست بھی تھی ۔ آج امی ابو گاؤں چلے گئے سو گھر میں کم بندے تھے اور کل میں نے ہوسٹل بھی جانا ہے ، تو سوچا کچھ سپیشل بنائیں ۔ مچھلی کا موڈ بنا لیکن پھر کہا کہ گرمی ہے بہت سو کڑاھی پہ اتفاق ہوا ۔ ابھی کڑاھی کھا کے بیٹھا تو یاد آیا کہ دو دن کی ڈائری ایک ہی دفعہ لکھنی ہے تو ابھی سے شروع کر دوں ۔ بس یہی تک تھا احوال اور کل ہوسٹل جانا ہے اور پھر سفر کرنا ہے ۔ ایک ہفتے سے مسلسل سفر ہی کئے جا رہا ہوں بس آپ سب لوگوں کی دعائیں چاہئیں خوش رہیں اور خوش رکھیں ۔ آخر میں اسی شعر کے ساتھ الوداع کہ ہنسی میں کٹتی تھیں راتیں ، خوشی میں دن گزرتا تھا عمیر ، ماضی کا افسانہ ، نہ تم بھولے نہ ہم بھولے ❣️🌹❣️از قلم-عمیر بلوچ ✍️ مورخہ :27 مارچ 2021 8:05 PM تصویر غازی یونی سے کام ختم کر کے لی تھی !)۔)
No comments yet