read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

برا ہی کیا تھا جو آپ اپنی مثال ہوتے کمال ہوتے کسی طرح سے جو ٹوٹے رشتے بحال ہوتے کمال ہوتے یہ لیلیٰ مجنوں یہ ہیر رانجھا یہ شیریں فرہاد کی محبت تھی ایسی شدت کہیں جو ان کے وصال ہوتے کمال ہوتے پڑھا نہیں تھا نصاب الفت عمل میں آگے تھے ہر کسی سے سمجھتی دنیا اگر ہمیں بے مثال ہوتے کمال ہوتے وہ مجھ سے ملتا خموش رہتا خموشیوں پر ہی داد پاتا مگر جو نظروں سے منفرد سے سوال ہوتے کمال ہوتے یہ کیا کہ تنہائیوں سے رشتہ بنا کے خود کو گنوا لیا ہے سما کے مجھ میں جو آپ میرا جمال ہوتے کمال ہوتے جسے بھی دیکھا اسی کو دعوائے حسن کرتے سنا گیا ہے جہان بھر میں حسیں اگر خال خال ہوتے کمال ہوتے نصیب اپنا سخنوروں میں ہماری گنتی نہ ہو سکے گی عمرؔ اداکار ہم اگر با کمال ہوتے کمال ہوتے

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.