!!!! ایک تخیل !! اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں زندگی کے گزرشتہ چند دن میں پیش آنے والے حالات اسے اندر سے جھنجھوڑ رہے تھے ، وہ رونا چاہتا تھا لیکن اسے کوئی کاندھا کوئی دلاسہ دینے والا نہیں تھا جسے وہ اپنا دکھ سنا سکے ۔ اس نے کہیں پہ سن رکھا تھا کہ جب انسان دکھی ہوتا ہے تو دل کی گہرائیوں سے مانگتا ہے ، اسی لئے اللہ دکھی انسانوں کی بات آسانی سے سنتا ہے ۔ یہی سوچ ذہن میں آتے ہیں اس نے وضو کیا اور دو رکعت نماز حاجت کی نیت باندھ لی ۔ ابھی اس نے الحمد شروع ہی کی تھی کہ وہ سارے دکھ اور پریشانیاں اسے چین نہیں دے رہی تھیں اور ایک ہچکی آئی اور پھر گال آنسوؤں سے تر ہوتے چلے گئے ، ہونٹ کپکپانا شروع کر دئے اور کچھ بھی نہیں بولا جا رہا تھا وہ بار دوبارہ سے سٹارٹ کرتا اور الحمدللہ رب العالمین تک پہنچتا اور پھر ہچکیوں اور أنسوؤ کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ۔ پھر جب اس کے آنسو تھم چکے سب درد بہہ چکے تو پڑھنا شروع کیا اور پھر پڑھتا چلا گیا لیکن جیسے ہی سجدے میں پہنچا اس کے سب ضبط پھر سے ٹوٹ گئے ۔ کوئی سہارا تھا ، کوئی بہت بڑا دلاسہ تھا جو اسے کاندھے سے پکڑ کر کہہ رہا تھا "کیوں اداس ہو ؟ خود کو تنہا کیوں محسوس کر رہے ہو ؟ میں ہوں نہ تمہارے ساتھ ، تم۔میری طرف ایک قدم بڑھاؤ میں دو قدم بڑھاؤں گا ۔ تم مجھ سے مانگ کر تو دیکھو کیا چیز ہے جو میں نہیں دے سکتا ، بس ایک بار میری طرف لوٹ کر تو دیکھو !" ۔ اس کے زہن میں فیسبک واٹس ایپ پہ سکرولنگ کرنے کے دوران ایک فوٹو پہ لکھےگئے وہ الفاظ یاد آ رہے تھے "وہ آزمائے گا دنیا کی ہر محبت دکھا کر پھر پوچھے گا بتا کون ہے تیرا میرے سوا " اس کا کوئی بھی تو نہیں تھا ، دنیا کی ہر محبت کو آزما چکا تھا وہ لیکن اب اسے ایک سہارہ ملا تھا تو اس کو کہاں کھو سکتا تھا وہ ۔ احساس ندامت تھا یا تنہا ہونے کا خوف یا بھی ہر کسی کے چھوڑ جانے کا غم ، وہ بس روئے جا رہا تھا ۔ پھر دوسرا سجدے میں بھی وہی حالت اور دوسری رکعت میں بڑی مشکل سے خود کا سنبھالا اور پڑھتا گیا ۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی نماز توڑ کر بیٹھ جائے بس اور اس سے مانگے جو وہ منگنے آیا تھا ، اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ مانگنے کیا آیا تھا شاید سکون ؟ یا پھر وہ اسے ہی مانگنے آیا تھا جو ہمیشہ اس کی مدد کرنے کے لئے تیار رہتا تھا ۔جیسے تیسے نماز پوری کی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور یہی تو لمحہ تھا جس کا وہ بے صبری سے انتظار کر رہا تھا ۔ لیکن یہ کیا ، یہاں بھی وہ بس روئے جا رہا تھا ، اس کے زہن میں صرف ایک بات تھی ، "کیا خدا کو بھی بتانا پڑتا ہے اپنی حالت کا۔ ؟ کیا اس کو نہیں پتہ ہم کس حال سے گزر رہے ہیں ؟ اگر نہیں تو وہ خدا کس چیز کا ہے پھر ؟ وہ جو اس پل کو کب سے انتظار کر رہا تھا۔ خدا سے بات کرنے کا ، معافی مانگنے کا ، ندامت کا اظہار کرنے کا .اب بس روئے جا رہا تھا اور آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ! ۔ کب تک روتا وہ ، خیر آنسو تھمے ، دل سنبھلا اور سوچا اب مانگ لوں ! لیکن وہ کیا مانگتا ، کیسے مانگتا خدا کو بھی تو پتہ تھا وہ کیا مانگنے آیا تھا تو بتانا ضروری تھا کیا ؟ آخر میں وہ صرف یہی الفاظ کہہ کے وہاں سے اٹھ گیا اے مالک و ملک اے شاہ سائیں مجھے اور نہ کوئی چاہ سائیں میری عرضی مان نہ خالی موڑ مجھے مان بہت میرا مان نہ توڑ اے مالک و ملک اے شاہ سائیں !۔ اے مالک و ملک اے شاہ سائیں !!۔ حالانکہ وہ بھی جانتا تھا اس نے مانگا تو تھا کچھ نہیں !۔ #SorryForEverything #BawaGBangrian ✌️ عمیر بلوچ ✍️
No comments yet