read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

Diary Of A Medical Student Day # 4 ہے کون اس جہاں میں میرا پوچھنے والا پاگل ہیں جو کہتے ہیں گھر کیوں نہیں جاتے آج کا دن مصروف رہا تھوڑا سا۔ ایک تو صبح ہی صبح ہر طرف چھائے بادل یہی ٹینشن دے رہے تھے کہ آج گاؤں کیسے جائیں گے تو دوسری طرف یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں دیر نہ ہو جائے ۔ موسم کے پیش نظر بائیک پہ جانا محال لگ رہا تھا لیکن گاؤں میں یونہی پھرنے سے اچھا تھا بائیک پہ گھومیں گے ، اسی خیال کی وجہ سے بائیک پہ ہی جاے کا فیصلہ ہوا۔ ابھی تیاری ہو ہی رہی تھی کہ پتہ چلا ایک کزن نئی بائیک لینے کے لئے ہمارے شہر آیا ہوا ہے۔ پہلے اسی کے ساتھ بائیک لینے چلے گئے اور پھر وقت کی قلت کے پیش نظر زیادہ دیر نہ کرتے ہوئے روانہ ہو گئے ۔ جب ہم نکلے تو آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا لیکن راستے میں سب کچھ ختم ہو گیا اور ہم جو چادر بارش سے بچنے کے لئے ساتھ لائے تھے اس کو بھی بیگ میں ڈال دیا۔ راستے میں ایک دوست نے ذبردستی روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ آج یہی رک جاؤ صوبت بناتے ہیں لیکن ہمارے دن پہلے ہی کم تھے ، دو دن بعد دوبارہ ہوسٹل جانا تھا سو اسی لئے اس سے بس چائے اور مٹھائی کھائی اور پھر رونہ ہو گئے ۔ گاؤں پہنچ کر سب سے پہلے پھپھو کے گھر گئے لیکن وہاں جا کے پتہ چلا سب شادی پہ گئے ہوئے ہیں ۔ سو وہاں تھوڑا بیٹھے اور چاچو "جو قریباً دس سال سے معزور ہیں 🥺ان کے ساتھ گپ شپ کی اور روانہ ہو گئے۔ پھر چچا کے گھر آئے تو کزنز نے بہترین طریقے سے استقبال کیا اور تھوڑا ٹائم انہی سے گپ شپ کی ۔ پھر شام کو کرکٹ کے گراؤنڈ پہ جا پہنچے ۔ مغرب تک کرکٹ اور والی بال کے میچ دیکھے اور زیر نظر تصویر اس وقت کی لی گئی ہے اور سامنے سے دیکھائی دیتے پہاڑ بار بار اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے ۔ اسی لئے کل انہی پہاڑوں کی سیر کرنے اور کچے چنے کھانے کا پلان بنا ہے ۔ مغرب کے ٹائیم وہاں سے واپس آئے تو سیدھا پھپھو کے گھر گئے جو اب واپس آ چکے تھے ۔ وہاں پہ کھانا کھایا ، تھوڑی گپ شپ ہوئی۔ پھر ساتھ والی بیٹھک پہ تاش کھیلنے کا موڈ بنا اور ابھی تک وہی کھیلتے رہے ۔ ابھی فاغ ہوئے ہیں تو وعدے کے مطابق آج کی اپنی روداد اور ڈائیری آپ لوگوں کو بھیج رہا ہوں ۔ ابھی بارش ہونا شروع ہو گئی ہے سو جو چارپائیاں باہر سونے کے لئے نکالی تھیں اب انہی کو دوبارہ اندر رکھتا ہوں 😁😅۔ خوش رہیں اور خوش رکھیں ! ۔ اس کی یاد آئی تھی دو تین بار لیکن پھر میں اپنے کاموں میں مشغول ہو گیا تھا ۔ زندہ رہے تو کل ہو گی فکر تمہاری اس رات چل بسے تو اپنا خیال رکھنا از قلم: عمیر قیصرانی مورخہ 21 مارچ 2021 12:30 A.M

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.