read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

Diary Of A Medical Student Day #6 وہ جو خواب تھے میرے زہن میں نہ میں کہہ سکا نہ میں لکھ سکا کہ زبان ملی تو کٹی ہوئی کہ قلم ملا تو بکا ہوا۔۔۔!! آج کی صبح 2 بجے ہوئی ۔ آج گھر جانے کا موڈ تھا لیکن صبح ہی صبح بھائی نے فرمائش کی کہ آج نہیں کل چلتے ہیں ۔ میرا تو پہلے ہی موڈ رکنے کا تھا ، یہ سنتے ہی کہا کہ چلو کل چلتے ہیں ۔ خیر ، دن کی چائے بہن کے گھر جا کے پی ۔ وہی بیٹھے بیٹھے یاد آیا کہ آج تو سنیپ چیٹ کی سٹریک نہیں بھیجی ۔ یہ یاد آتے ہی مجھے ٹینشن لگ گئی کیونکہ سا سے اوپر ہو گیا تھا سٹریک بناتے بناتے اب اس کو بحال تو کرنا تھا۔ بہنوئی سے موبائل لیا اور ساتھ والی پہاڑی پہ چڑھ گیا۔ وہاں کچھ سگنل آ رہے تھے ۔ وہی سے سنیپ بھیجی ۔ پھر کزن نے کہا کہ گھاس کاٹنے چلتے ہیں آج ۔ میں نے کہا چلو میں تو ساتھ ہوں ۔ راستے میں ہی سگنل آنا شروع ہوئے اور میں نے جھٹ سے نوئاز کیش کھولی اور گڈ آفٹر نون کی پوسٹ کر دی ۔ پھر ایک پوسٹ نظر سے گزری تو حیرانی ہوئی ۔ میں نے سنا ہے کہ وہ شاعری کرنا شروع ہو گئی ہے جو مجھے ہو وقت کہتی تھی کہ ایسی بکواس شاعری نہ سنایا کرو۔ سچ کہوں تو شاعری بے ڈھنگی تھی اسکی لیکن خوشی ہوئی کہ آیندہ میری شاعری کو کم از کم بکواس نہیں کہے گی کیونکہ اب شاعری کی زبان سمجھنا شروع کر دیا اس نے ۔ خیر ۔ گھاس کاٹنے جا رہے تھے تو راستے میں دو چچا لکڑیا مار رہے تھے تو بہنوئی نے کہا کہ میں انکا ہتھ بٹاتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ مجھے نہیں اتا طریقہ۔ اس نے کہا تم آرام سے بیٹھ بس دیکھتا جا۔وہاں صرف پندرہ منٹ بیٹھے اور وہاں سے نکل پڑے۔ کھیتوں میں پہنچے تو سگنل بند ہو گئے تھے ۔یہ تصویر انہی کھیتوں میں بنائی تھی ۔ کزن نے گھاس کاٹی اور ہم واپس ہو لئے۔ واپسی پہ اس نے کہا کہ میں اس کا ٹوکا کرتا ہوں ۔ میں نے سوچا تب تک میں ساتھ والی پہاڑی پہ جاتا ہوں ۔ راستے میں تل پڑتا ہے تو رات والی رود کوہی کے آثار نمایاں تھے ۔ اسی کے اوپر سے گزرتے ہوئے میں ساتھ والی پہاڑی پہ چڑھا تو کزن کی کال آ گئی کہ کہاں ہو۔ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔ وہاں زیادہ دیر نہیں بیٹھ اور واپس ہو لیا ۔ وہاں سے سیدھا ہم روڈ پہ گئے جہاں پہ نیا روڈ بن رہا ہے ۔ وہاں تھوڑی دیر بیٹھے تو میں اکتا گیا تھا۔ سو کزن نے کہا کہ گھر چلتے ہیں ۔ گھر بھی سکون نہیں آیا مجھے دوبارہ روڈ پہ آیا تو خالہ کے دو چھوٹے بچے کھڑے تھے جنہوں نے مجھ سے پوچھا کہ وہوا (ساتھ والا شہر) جا رہے ہو ۔ میں نے بولا نہیں ۔ تب میں نے سوچا کہ بور تو ویسے ہو رہا پوں ان کو چھوڑ آتا ہوں۔ لیکن مجھے کنفرم نہیں تھا کہ انہوں نے واقعی جانا ہے یا نہیں (کیوں کہ وہ کہہ رہے تھے کہ امی یہی پہ ہے لیکن ہم نے جانا ہے ) تب میں نے ان کے ماموں کو کال کی تو اس نے کہا کہ انہوں نے جانا ہے واقعی لیکن لیٹ جائیں گے ۔ وہ بار بار اصرار کر رہے تھے کہ ہم نے جانا ہے جانا ہے ۔ میں نے انکو ساتھ بٹھایا اور ساتھ والے شہر چل دیا ۔ راستے میں ان سے پوچھا کہ مجھے جانتے ہو ؟ دونوں نے کہا نہیں ! میں نے کہا کہ کل تو تمہارے گھر آیا ہوا تھا میں ۔ تب انہوں نے کہا کہ ہاں دیکھا تھا لیکن نام نہیں آتا ، بس آپکو ڈاکٹر ڈاکٹر بلاتے ہیں ۔ میں ہنس دیا ۔ شہر پہنچتے ہی میں نے سوچا انکو ایسے چھوڑنا اچھا نہیں ۔ پہلے بریانی والی دکان پہ پہنچا تو اس نے کہا بریانی تو ختم ہو گئی ہے ۔ تب ان کو ربڑی (علاقے کا مشہور جوس) پلائی اور گھر چھوڑ کے واپس ہو لیا۔ راستے میں چچا کے گھر سے سامان اٹھانا تھا تو وہاں چچی سے سلام دعا کی اور سامان اٹھایا۔ باہر نکلا ہی تھا کہ ایک دوست مل گیا جو ہے تو باہر کا لیکن میرے ساتھ نشتر ہی رہتا ہے۔ اس نے بائیک کی چابی نکال کے جیب میں ڈال لی اور کہا کہ اتر بائیک سے ۔ ایک تو بتا کے نہیں آتا اوپر سے کال نہیں اٹھاتا ۔ اب آرام سے کھانا کھا کے جائیں ۔ میں نے کہا کہ چائے پی لیتا ہوں ۔آج شام کو بہن کے گھر دعوت ہے اور میں نے وہاں بھی پہنچنا ہے۔ مغرب ہو گئی تھی یہاں پہ اور میں نے واپس گاؤں بھی جانا تھا ۔ (ایک تو ہمارا گاؤں جنات کی وجہ سے مشہور ہے اور اوپر سے میں نے رات کے اندھیرے میں اکیلے سفر کرنا تھا) اسی لئے وہاں چائے کے لئے بیٹھا تو وہ کھانا لے آیا ۔ میں بولا نہ کر یار میں نے جانا ہے ۔ وہ بولا اچھا تھوڑا چکھ لے ، چائے بھی آ رہی ہے ۔ جیسے تیسے کھانا کھایا اور چائے پی اور اجازت مانگی۔ وہاں سے نکلتے ہیں میں نے سپیڈ لگائی اور سیدھا گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔ ایک تو اکیلا اوپر سے اندھیرا (میری تو پیک تھی 🤭😅) ۔ ایک گھنٹہ کا سفر میں نے 10 منٹ میں کیا ، وجہ تو پتہ چل گئی ہوگی۔ایک جگہ پہ نیا کوئی تعمیراتی بورڈ لگ ہوا تھا جس نے تھوڑا ڈرایا (لگتا ایسے تھا جیسے بندہ کھڑا ہو) لیکن زیادہ نہیں ڈرایا۔ خیر خیریت سے گھر پہنچا اور کھانا کھایا ۔ ابھی چند منٹ پہلے کزن کو کہا کہ نیٹ کی ڈیوائس چھت پہ رکھو (جو ہمیں انٹرنیٹ دیتی ہے) ۔ پہلا پہلا جو نوٹیفکیشن آیا وہ اس کی سنیپ تھی ۔ اس کو اوپن کیا تو اس نے اپنی تصویر بھیجی ہوئی تھی۔ اس کو پتہ تھا کہ اس کی تصویر ہمیشہ مجھے کمزور کر دیتی ہے اور اس سے رابطہ کرنے کو دل کرتا ہے ۔ شعر ہے نہ کہ "نگاہیں چار ہوتی ہیں تو بے ساختہ پیار آجاتا ہے" پتہ نہیں کتنی دیر میں وہ تصویر دیکھتا رہا لیکن تھک ہار کے کاٹ دی ۔ وہ جس کی تم نے اتنی کئیر کی اور اسکا صلہ جس انداز سے ملا وہ سب چیز آنکھوں کے سمنے گھوم گئی ۔ پھر سوچا آج کی ڈائیری لکھنی ہے تو خود کو مشغول کر لیتا ہوں ۔ ابھی اسکا زکر کیا تو سر میں درد ہونے لگا ہے ۔ پیناڈال لیتا ہوں ابھی شاید اس سے آرام آ جائے لیکن غالب نے جو کہا تھا سچ کہا تھا "یہ درد سر ایساہے کہ سر جائے تو جائے ہے " آج کا احوال یہی کچھ تھا کل کا احوال کل لکھتے ہیں ۔ کل صبء صبح اٹھنا ہے کیونکہ کل ہر صورت واپس جانا ہے ۔ آخر میں وہی شعر کے ساتھ اختتام کہ زندہ رہے تو کل ہو گی فکر تمہاری اس رات چل بسے تو اپنا خیال رکھنا از قلم : عمیر قیصرانی مورخہ :23 مارچ 2021 11:10

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.