ہمیں اب کھو کے کہتا ہے مجھے تم یاد۔آتے ہو کسی کا ہو کے کہتا ہے مجھے تم یادآتے ہو سمندر تھا تو زوروشور سے لہریں بہاتا تھا اب قطرہ ہو کے کہتا ہے مجھے تم یادآتے ہو بیاں کرتے جو حال دل تو یوں مسکرا دیتے اب وہی رو کے کہتا ہے مجھے تم یاد آتے ہو۔ نہ پوچھ اس کی بد نصیبی کا عالم عمیر وہ مجھ کو کھو کے کہتا ہے مجھے تم یاد آتے ہو عمیر قیصرانی 🌹❣️🌹
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet