read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

Diary Of a Medical Student Day # 7 تم نے پوچھا ہے چلو تم کو بتا دیتے ہیں جو ہم پہ گزری ہے تم کو بھی سنا دیتے ہیں تیرے بعد ہمیں خود پہ بھی اعتبار نہیں لفظ لکھتے ہیں اور لکھ کر مٹا دیتے ہیں کل رات کے اندھیرے میں بہنے والے آنسو شاید کوئی دیکھ نہیں پایا لیکن صبح کی روشنی میں لال آنکھیں اور سر درد رات کی کہانی بیان کر رہے تھے ۔ صبح مجھے یہ شعر بار بار یاد آتا رہا کہ تیری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ صبح ہی صبح کزن نے اٹھایا لیکن میں دوبارہ سو گیا تھا ۔ چند لمحے بعد ایک اور کزن آیا تو آتے ہیں مجھے اٹھایا کہ آپ لوگوں نے آج گھر جانا ہے اٹھو ۔ جیسے ہی اس نے مجھے ہاتھ لگایا تو چلا اٹھا کہ تجھے تو بخار ہے ۔ میں نے کہا کہ میں ٹھیک ہوں ۔ کہتا ہے کوئی گولی کھا لے اور آج یہیں رہ جا کل چلے جانا لیکن میں بار بار یہی کہے جا رہا تھا کہ مجھے گھر جانا ہے ، مجھے گھر جانا ہے ۔ میں اٹھا اور ہاتھ منہ دھو کے چائے پینے چچا کے گھر پہنچ گیا۔ وہاں پہ کوشش رہی کہ کسی سے آنکھ نہ ملا سکوں تا کہ لال آنکھیں کسی کو نظر نہ ائیں نہیں تو خوامخواہ میں سوال کریں گے ۔ خیر وہاں سے صرف چائے پہ اور بہن کے گھر چل پڑا ۔ وہاں پہ ناشتہ کیا تو اسی اثناء میں چچا کی کال آئی کہ میرے کچھ کاغز لیتے جانا۔ آدھے گھنٹے تک انتظار کیا تو چچا کہ کال دوبارہ آئی کہ وہ کاغذ نہیں آئے آپ لوگ انتظار نہ کرو ، چلے جاؤ۔ ہم نے وہاں سے اجازت ۔مانگی اور روانہ ہو گئے ۔ بائیک چلانا محال ہو رہا تھا میرے لئے کیونکہ چھوٹے بھائی کو بائیک چلانا نہیں آتی تھی ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیسے بائیک چلا رہا تھا بس یہ پتہ تھا کہ بائیک چل رہی ہے اور میں دوڑائے جا رہا تھا۔ دو بار مرتبہ ایسا لگا کہ اب ہوا ایکسیڈینٹ تو اب ہوا ۔ ایک مرتبہ تو بہت ہی قریب سے بچے کیونکہ میں نے ایک ٹرالر کو کراس کیا تو دوسرا سامنے تھا میرے ۔ دو ٹرالر کے بیچ میں پھنس گئے تھے ، شکر ہے کہ پیچھے والے نے سہی ٹائیم پہ بریک لگائی اور شیشے سے نکل کر گالیاں نکالتا رہا۔میں ان سب کو اگنور کئے جا رہا تھا کیونکہ میرے زہن میں یہی تھا کہ گھر پہنچنا ہے اور جلدی پہنچنا ہے۔ راستے میں ایک جگہ پہ بھائی نے کہا کہ گھوٹا پیتے ہیں (بادام سے بنایا گیا مشروب )۔ میں بھی تھک گیا تھا اب ، سو تھوڑا آرام کے غرض سے گھوٹا پینے کے لئے رکے ۔ ابھی بھی آدھے گھنٹے کا سفر اور باقی تھا۔ جیسے تیسے کر کے گھر پہنچے اور الحمدللہ خیریت سے پہنچے ۔ سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں ۔ میں نے دو گولیا کھائیں اور لیٹ گیا۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔ زہن میں مختلف قسم کے وسوسے ، خیالات بے چین کئے جا رہے تھے ۔ خیر نوائز کیش اوپن کی اور دوستوں کو گڈ آفٹر نون کا میسج کر دیا ۔ چند لوگوں نے لائیک کیا تو چند نے دعائیں دیں ۔ خوش رہیں ،والی دعائیں زیادہ تھیں تب مجھے رہ رہ کر ایک ہی شعر یاد آرہا تھا کہ "مجھے زندگی کی دعا دینے والے ہنسی آ رہی ہے تیری سادگی پر " سر درد کی ٹیسیں بڑھتی جا رہی تھیں ۔ میں نے موبائل کو سائیڈ پہ رکھا اور سو گیا ۔ درد سے آنکھیں کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔مجھے احساس ہو رہا تھا کہ آنکھیں بھیگ چکی ہیں لیکن مجھے سونا تھا ۔ سو آنکھیں نہیں کھولیں اور پتہ نہیں کب میں نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا ۔ اٹھا تو عصر کا ٹائم ہو رہا تھا اور تب تک امی بھی سکول کی حاضری سے واپس آ چکی تھیں۔ ان سے باتیں ہوئیں تو تھوڑا سکون ملا ۔ باتوں باتوں میں میں نے امی کو بتایا کہ میں نے ہوسٹل جانا ہے ۔ امی پریشان رہ گئیں کہ کیوں ابھی تو چھٹیوں کا اعلان بھی ہو گیا ہے ۔ میں نے بہانا بنایا کی شناختی کارڈ والا مسئلہ حل کرنا ہے لیکن امی کی آنکھیں بتا رہی تھی کہ وہ سمجھ چکی ہیں معاملہ کوئی اور ہے ۔ امی بولیں کہ آچھا دو تین دن ہمارے ساتگ گزارو پھر چلے جانا ۔میں نے کہا چلو ٹھیک ہے میں اتوار روانہ ہو جاؤں گا ۔ تب تک مغرب کی ازان آ گئ تو نماز پڑھنے کے لئے میں کمرے سے نکل پڑا ۔ زہن کو اب بھی آرام میسر نہیں اور درد اب بھی محسوس ہوتا ہے لیکن کسی کو پتہ نہی۔ چلنے دینا تھا ۔ دوستوں کو بھی سنیپ بھیج دی کہ "زبردستی مسکرانے کی کوشش ہمیشہ ناکام رہتی ہے" آج کا احوال یہی تک تھا اور اب بس آرام کئے جا رہا ہوں ۔ کل کا احوال کل کو بتاتا ہوں اور اس شعر کے ساتھ رخصت ہوتا ہوں کہ "سمجھے کوئی دیوانہ جانے کوئی سودائی ان کا ہی تصور ہے محفل ہے کہ تنہائی " از قلم : عمیر بلوچ مورخہ :24 مارچ 2021 8:45 (آج کوئی پک نہیں لی اسی لئے کل والی پوسٹ کر رہا ہوں )

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.