read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

کچھ خود بھی تھے افسردہ سے ، کچھ تم بھی ہم سے روٹھ گئے ، کچھ خود ہی زخم کے عادی تھے ، کچھ شیشے ہاتھ سے چھوٹ گئے ، کچھ تم کو سچ سے نفرت تھی ، کچھ ہم سے نا بولے جھوٹ گئے ، کچھ لوگوں نے اکسایا تمہیں ، کچھ اپنے مقدر پھوٹ گئے ، کچھ خود اتنے مہتات نا تھے ، کچھ لوگ بھی ہم کو لوٹ گئے ، کچھ تلخ حقیقتیں تھیں ، کے خواب ہی سارے ٹوٹ گئے . . 🌹❣️🌹عمیر قیصرانی

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.