read.cash Log in
@Doctor5588 more from that month

میری محبت کی ادھوری کہانی !!۔ محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے اس دن فزیو کی اوسپی تھی اور جس دن بھی کوئی سالانہ وائوا یا اوسپی ہو میری عادت ہے کہ میں 7 بجے ہی وہاں پہنچ جاتا تھا اور اس دن وہ بھی بہت پہلے آ گئی تھی۔ میری عادت ہے چل کے پڑھنے کی ، سو میں چل بھی رہا تھا اور پڑھ بھی کہ اچانک اس نے کوئی سوال پوچھا اور حسب توقع مجھے نہیں آتا تھا۔ اس نے کہا کہ نیٹ سے سرچ کر کے دکھا دیں ۔ وہ اٹھ کے میرے قریب آ گئی تھی اور اتنا قریب آ گئی تھی کہ میں زرا سا بھی ہلتا تو اس کو ٹچ ہو جاتا ۔ میں اس کی بے باکی پہ حیران رہ گیا تھا اور ڈر بھی رہا تھا کیوں کہ کوئی بھی مسئلہ ہوا تو الزام ہمیشہ لڑکے پہ آتا ہے۔ خیر ، گھنٹے تک اوسپی سٹارٹ ہوئی اور اوبزروڈ سٹیشن کے پہلے ہی سٹیشن پہ جو بے عزتی ہوئی وہ اللہ کسی کو نہ دے اور وہ سامنے بیٹھی ہنس رہی تھی ۔ کوئی میم تھی اور مجھے آج تک یہ نہیں سمجھ آئی ان میم حضرات کو کیوں چل ہوتی ہے شو مارنے کی 😅۔ چند دن بعد ہمارا بائو کیم کا وائیوا تھا۔ میں اسی ٹائیم پہ پہنچ گیا تھا لیکن وہ بہت دیر سے آئی تھی ۔ وہ جب میرے قریب سے گزری تو غیر ارادی طور پہ مجھے دیکھے گئی اور پتہ نہیں مجھے کیا ہوا تھا کہ میں بھی نظر نہیں ہٹا پایا تھا ایک لمحے کےلئے ،۔ مجھے وہ شعر یاد آ رہا تھا اس پل، نظر نے نظر کو نظر بھر کے دیکھا نظر کو نظر کی نظر لگ گئی وہ بائیو کیم ڈیپارٹ کے آفس کے ساتھ والی چئرز میں بیٹھ گئی اور میں باہر والی کرسیوں پہ ۔ وہ مجھے نظر نہیں آ رہی تھی سو میں بھی لڑکوں سے گفتگو کرنا شروع ہو گیا کہ اچانک پتہ نہیں اسے کیا سوجھی اور وہ اٹھ کر میرے بالکل سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گئی ۔ میں اسے دیکھنے سے اجتناب کر رہا تھا لیکن بار بار نظر پھسل رہی تھی ۔ کہتے ہیں نہ کہ تمہیں دانستہ محفل میں اگر دیکھا تو مجرم ہوں نظر ،آخر نظر ہے ،بے ارادہ اٹھ گئی ہو گی جب میں وائیوا دے کہ باہر نکلا تو وہ قریب ہی بیٹھی تھی اور تقریباً چیخ کر کہا "سوال تو بتاتے جائیں .۔"۔ خیر اس کی اس حرکت پہ ہنس کہ رہ گیا تھا میں اور بغیر نظر ملائے سارے سوال بتا دئے اور آگے چل دیا۔ دوسرے دن اوسپی تھی اور ہم دونوں کا پریکٹیکل ایک ہی تھا ۔ اس نے ایک اور لڑکی کے ساتھ مل کے پرفام کیا لیکن پھر سوالوں کے لئے گروپ بنانا پڑا ۔ جب سب سوال حل ہو گئے اور سب اپنی اپنی جگہوں پہ چلے گئے ۔ چند لمحے بعد وہ ساتھ والی لڑکی ہو ساتھ لے کر دوبارہ میرے سٹیشن پہ پہنچ گئی اور لکھنے والا کام سٹارٹ کیا ساتھ میں ۔ درمیان میں وہ بے ڈھنگے سوال بھی پوچھتی رہی ۔ کام تمام کر کے وہ واپس اپنے پہ گئی لیکن چند منٹ ہی گزرے ہونگے کہ وہ واپس آئی اور پوچھا "آپکا رول نمبر کیا ہے" ۔میرے دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا "او مائی ، تینوں کی میرے رولنمبر نال" ۔خیر میں نے از راہ مزاق کہا کہ "کیوں رزلٹ دیکھو گی کیا " ۔ "اچھا نہ بتاو بس اب خوش" یہ کہہ کر چلی گئی ۔ سارا پریکٹیکل پرفام کر کے جب میں باہر نکلا تو وہ دور کہیں کھڑی تھی ۔ میں نے دوست سے پوچھا کہ وہ لڑکی کون ہے ؟ کہنے لگا "مرشد اتھو رہ گئیں کوئی نوی گول (مرشد یہ تیرے کام کی نہیں ،کوئی نئی ڈھونڈ)۔ میں حیران ہو کر بولا "کیوں ایندے سر تیں سینگ ان کیا ؟"۔(کیوں اس کے سر پہ سینگھ ہیں کیا 🙄)کہتا ہے ، اس سے بھی کا گزر چکا ، اس کی منگنی ہو چکی ہے پہلے سے ہی ۔ میرے دماغ میں انڈین فلموں والا "دھوم تانا دھوم تانا نانانا" بج رہ تھا 🤭😅۔خیر دل سے تہہ کر کے نکلا کہ آئیندہ اس یونی کی کسی بھی لڑکی کو لفٹ نہیں کرانی ۔ "دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے " اس کے بعد تو ہمیں۔ میاں غالب صاحب ہی یاد آ رہے تھے ۔ نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے #MenBechalaShalleefShaMashooomBacha #KhushRahen

2 comments

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.