Urdu poetry
ملا تو حادثہ کچھ ایسا دل خراش ہوا وہ ٹوٹ پھوٹ کے بکھرا میں پاش پاش ہوا تمام عمر ہی اپنے خلاف سازش ک وہ احتیاط کی خود پر نہ راز فاش ہوا ستم تو یہ ہے وہ فرہاد وقت ہے جس ن نہ جوئے شیر نکالی نہ بت تراش ہوا یہی تو دکھ ہے برائی بھی قاعدے سے نہ ک نہ میں شریف رہا اور نہ بد معاش ہوا ہو ایک بار کا رونا تو روؤں بھی دل ک یہ آئنہ تو کئی بار پاش پاش ہوا بلا کا حبس تھا ساجد ہوا کی بستی می چلی جو سانس کی آری میں قاش قاش ہو
No comments yet