read.cash Log in
A@AzanSA more from that month

Urdu poetry

اشارتوں کی وہ شرحیں وہ تجزیہ بھی گیا جو گرد متن بنا تھا وہ حاشیہ بھی گیا وہ دل ربا سے جو سپنے تھے لے اڑیں نیندیں دھنک نگر سے وہ دھندلا سا رابطہ بھی گیا عجیب لطف تھا نادانیوں کے عالم میں سمجھ میں آئیں تو باتوں کا وہ مزہ بھی گیا ہمیں بھی بننے سنورنے کا دھیان رہتا تھا وہ ایک شخص کہ تھا ایک آئینہ بھی گیا بڑا سکون ملا آج اس کے ملنے سے چلو یہ دل سے توقع کا وسوسہ بھی گیا گلوں کو دیکھ کے اب راکھ یاد آتی ہے خیال کا وہ سہانا تلازمہ بھی گیا مسافرت پہ میں تیشے کے سنگ نکلا تھا جدھر گیا ہوں مرے ساتھ راستہ بھی گیا ہمیں تو ایک نظر نشر کر گئی انور ہمارے ہاتھ سے دل کا مسودہ بھی گیا

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.