ہم کیا کر رہے ہیں۔۔
آج ہم جہاں کھڑے ہیں شاید اس سے آگے جاسکتے تھے مگر ہم کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ، حکومت اگر ہمیں گھر میں بیٹھنے کا کہتی ہے تو ہم گھر مین بیٹھنے کو تیار نہیں باہر صرف یہ دیکھنے نکل جاتے ہیں کہ باہر کیا ہورہا ہے ، بازاروں میں رش لگا ہوا ہے لوگ ایسے خریداری کر رہے ہیں جیسے ان کے ہاتھ کوئی خزانہ لگ گیا ہے اور پھر کہتے ہیں حکومت عوام کا معاشی قتل کررہی ہے ۔ آج عوام اگر شعور رکھتی تو شاید یہ ملک بہت آگے جاسکتا تھا مگر اب صرف افسوس کے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔
1 comment
یہ تو سچ بات ہے ہمارے لوگوں میں شعور کی کمی ہے اگر ان میں احساس ذمہ داری ہوتا تو ابھی کرونا کی گنتی جن اعداد پر پہنچ۔ کی ہے ہرگز نا پہنچتی ،حد تو تب ہو جاتی ہے جب چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر ہجوم میں گُھسے ہوتے ہیں بس اتنا ہی کہیں گے اللہ ہی ان کو ہدایت دے بندہ تو ہدایت دینے سے قاصر ہے۔