کار جب ندی پر پہنچی تو نوجوان ڈرائیور نے دیکھا کہ پُل ٹُوٹا ہوا ہے۔ قریب ہی ایک بُوڑھا دیہاتی بیٹھا مسواک کر رہا تھا۔ ڈرائیور نے پُوچھا، ’’بابا جی نزدیک کوئی دُوسرا پُل ہے؟‘‘ ’’نہ پُتر‘‘ نوجوان نے فیس بک پر کئی لوگوں کو پانی سے گاڑی گُزارتے دیکھا تھا۔ اُس نے بُوڑھے سےپُوچھا کہ ندی زیادہ گہری تو نہیں ہے؟ ’’نہ پُتر‘‘ پھر وہی جواب مِلا۔ ’’کیا کار اِس میں سے گُزر جائے گی؟‘‘ اُس نے پھر سوال کیا۔ ’’ہاں پُتر، لنگ جائے گی‘‘ یہ سنتے ہی نوجوان نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنی یادگار وڈیو بنانے کی خاطر اپنا موبائل وڈیو ریکارڈنگ آن کرکے دیہاتی کو پکڑایا’’"بابا جی اس میں سے مجھے دیکھتے رہیں بس‘‘ اور خود کار بےخوف و خطر ندی میں ڈال دی بمشکل 2 گز جاتے ہی کار تقریباً ڈوب گئی نوجوان ڈرائیور بمشکل بچ کے باہر نکلا اور غصے سے کہنے لگا ’’تم تو کہتے تھے کہ ندی گہری نہیں ہے اس میں تو میری کار بھی ڈُوب گئی‘‘ بُوڑھا دیہاتی سرکھُجاتے ہوئے بولاآھو پُتر، گَل تے بڑی عجیب اے، تیرے توں پہلے اِک بطخ لنگ کے گئی سی، اودیاں تے بس لتّاں ای ڈُبیاں سی۔۔۔‘ ضروری نہیں کہ ہر بابا سیانا ہو کوئی بابا شرارتی بھی ہو سکتا ہے
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet