read.cash Log in
W@Waisi more from that month

ہم نے کس طرح سے جزبات سنبھالے رکھے ٹوٹ بیٹھے تھے پر انداز نرالے رکھے سختی_ وقت نے بالوں میں سفیدی رکھ دی اور دکھانے کیلیے بال بھی کالے رکھے ہم نے سنبھالا ہے جی جان سےبڑھ کران کو ہیرے موتی کی طرح قلب کے جھالے رکھے ہم نے سوغات میں خوشیوں کا چمن رکھا اور تم نے تحفے میں فقط جان کے لالے رکھے ہم نے آنے نہ دیا نقش دوئی پاس کبھی بس ملک رب کیلیے درد کے نالے رکھے

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.