رات بیٹھا تھا میرے پاس خیالوں میں کوئی انگلیاں پھیر رہا تھا میرے بالوں میں کوئی دیدہ تر نے بڑی دیر میں پہچانا اسے روپ کھو بیٹھا ہے دوچار ہی سالوں میں کوئی غمزدہ شب کی گلوگیر ہوا کہتی ہے یاد کرتا ہے مجھے جاگنے والوں میں کوئی ہم اندھیروں کے مکیں ان کو نظر آ نہ سکے اس قدر محو رہا اپنے اجالوں میں کوئی ہجر نے اتنا ستایا ہے کہ جی چاہتا ہے کاش مل جائے تیرے چاہنے والوں میں کوئی
No comments yet