read.cash Log in
@Tooba

رات بیٹھا تھا میرے پاس خیالوں میں کوئی انگلیاں پھیر رہا تھا میرے بالوں میں کوئی دیدہ تر نے بڑی دیر میں پہچانا اسے روپ کھو بیٹھا ہے دوچار ہی سالوں میں کوئی غمزدہ شب کی گلوگیر ہوا کہتی ہے یاد کرتا ہے مجھے جاگنے والوں میں کوئی ہم اندھیروں کے مکیں ان کو نظر آ نہ سکے اس قدر محو رہا اپنے اجالوں میں کوئی ہجر نے اتنا ستایا ہے کہ جی چاہتا ہے کاش مل جائے تیرے چاہنے والوں میں کوئی

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.