میرے دو دوست ہیں،دن کے اُڑتے بادل اور رات کے اُڑتے تارے اور اُنکی دو ہم جھولیاں بارش کی برستی بوندیں اور گرتی برف کی تیتلییا ں پھر جب کبھی ہم سارے آپس میں مل بیٹھتے ہیں پہروں کھوجا کرتے ہیں تم کو سوچا کرتی ہیں۔
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet