read.cash Log in
@Naveed110 more from that month

لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا قبائے گل سے اسے استعارہ کیا کرتا بہار گل میں ہیں دریا کے جوش کی لہریں بھلا میں کشتئ مے سے کنارہ کیا کرتا نقاب الٹ کے جو منہ عاشقوں کو دکھلاتے تمہیں کہو کہ تمہارا نظارہ کیا کرتا سنا جو حال دل زار یار نے تو کہا طبیب مرتے ہوئے کاہے چارہ کیا کرتا ہلال عید کا ہر چند ہو جہاں مشتاق تمہاری ابروؤں کا سا اشارہ کیا کرتا حقیقت دہن یار کھولتا کیوں کر نہفتہ راز کو میں آشکارہ کیا کرتا قدم کو پیچھے رہ خوفناک عشق میں رکھ یہ پہلے دیکھ لے دل ہے اشارہ کیا کرتا خم شراب سے مجھ مست نے نہ منہ پھیرا کنار آب سے پیاسا کنارہ کیا کرتا بہار تھی جو وہ گل چہرہ یار بھی ہوتا اکیلے جا کے چمن کا نظارہ کیا کرتا گداز موم سے ہر استخواں کو پاتا ہوں پھر اور سوزش دل کا حرارہ کیا کرتا بڑا ہی خوار علاقہ ہے گلشن الفت مری طرح کوئی اس میں اجارہ کیا کرتا شراب خلد کی خاطر دہن ہے رکھتا صاف وضو میں ورنہ یہ زاہد غرارہ کیا کرتا شکستہ دل نہ ہو اس بت کے ناز سے کیوں کر سلوک شیشہ سے ہے سنگ خارا کیا کرتا بہار گل میں پیالہ لگا لیا منہ سے شراب پینے کو میں استخارہ کیا کرتا فقیر کو نہیں درکار شان امیروں کی سر برہنہ سر گوشوارہ کیا کرتا بہار گل میں تھا جامہ سے باہر اے آتشؔ نہ کرتا میں جو گریباں کو پارہ کیا کرتا

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.