آج سے 100 سال بعد مثال کے طور پر 2121 میں ہم سب اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ زیر زمین ہوں گے اور اجنبی ہمارے گھروں میں رہیں گے اور ہماری جائیداد غیر لوگوں کی ملکیت ہوگی انہیں ہماری کچھ یاد بھی نہیں رہے گی ابھی بھی ہم میں سے کون اپنے دادا کے باپ کا سوچے گا .. ہم اپنی نسلوں کی یاد میں تاریخ کا حصه بن جائیں گے، جبکہ لوگ ہمارے نام اور شکلیں بھول جائیں گی.. سو سال میں کئی اندھیرے اور ٹھہراؤ آئیں گے تب ہمیں اندازہ ہوگا کہ دنیا کتنی معمولی تھی، اور سب کچھ اور دوسرے سے زیادہ پا لینے کے خواب کتنے نادان اور خسارے کی سوچ کے حامل تھے، اور ہم چاہیں گے کہ اگر ہم اپنی ساری زندگی نیکیاں سمیٹتے اور نیکیاں کرتے ہوئے گزاریں تو وه موقع آج ھمارے پاس خوش قسمتی سے موجود ھے.. جب تک ہم باقی ہیں۔۔ ابھی زندگی باقی ہے ۔۔ غور کریں اور بدلیں.. اے اللہ ہمیں ہدایت دے.. اے اللہ ہمارا انجام اچھا کر.. جب اللہ ہمیں موت دے Ameen
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet