read.cash Log in
@Mubarah more from that month

یومِ وصال حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا: ام المومنین حضرت خدیجہ( رضی اللہ عنہا)بنت خویلد: ★تعارف : نام خدیجہ تھا اورلقب طاہره.ان کےوالدکانام خویلد بن اسد بن عبدالعزی'بن قصی تھا.یہی قصی حضور اکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)کے بھی جد اعلیٰ تھے.اسی اعتبار سے حضرت خدیجہ اورحضور(صلی الله عليه وآله وسلّم)کا یک جدی ہوناواضح معاملہ ہے.حضرت خدیجہ حضور اکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)کےنکاح میں آنے سے پہلےدومرتبہ رشتہ ازواج سے منسلک ہوئیں لیکن دونوں مرتبہ بیوه ہو گئیں. ★مال تجارت: حضرت خدیجہ ایک متمول خاتون تھیں ان کا مال تجارت ملک شام میں جاتااورفروخت ہوتا تھا.جب حضور اکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)کی عمر 25 سال ہوئی توآپ (صلی الله عليه وآله وسلّم)کے پاکیزه اخلاق کی بناپرحضرت خدیجہ نےآپ (صلی عليه وآله وسلّم)کو پیغام بهیجاکہ اگر آپ میرا مال تجارت شام لے جائیں تو میں اپنا غلام میسره آپ (صلی علیہ وآله وسلّم)کے ساتھ کردوں گی اور جو معاوضہ میں دوسرے لوگوں کو دیتی ہوں آپ (صلی الله عليه وآله وسلّم)کواس سے دوگنا پیش کروں گی.حضوراکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)نےاپنےسرپرست چچاابوطالب کے مشورےسےاس پیشکش کو منظور فرمالیااورتجارتی سامان لےکرملک شام تشریف لےگئے. اتفاق کی بات ہے کہ سب مال نہ صرف فروخت ہوگیا بل کہ حضرت خدیجہ کو پہلے سے دگنا نفع ہوا حضرت خدیجہ بہت خوش ہوئیں اور آپ (صلی الله عليه وآله وسلّم)کومقرره رقم سے دگنی رقم دی.حضوراکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)کی صداقت و امانت کا چرچہ عرب میں عام ہو چکا تھا. ★نکاح: شام سے واپسی پر حضرت خدیجہ کی نظروں میں حضور اکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)کی وقعت اورزیاده ہو گئی اورانہوں نے اپنی سہیلی نفیسہ بنت امیہ کی معرفت حضور اکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)کونکاح کا پیغام بھیجا حضور اکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)نےاپنےچچاابوطالب سےمشوره کیاجنہوں نےدوسرےاکابر خاندان سےمل کرآپ (صلی الله عليه وآله وسلّم)کا نکاح حضرت خدیجہ سے کر دیااس وقت حضور(صلی الله عليه وآله وسلّم)کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی. ★اعلانِ نبوت: حضور اکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)کےاعلان نبوت پرعورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ ایمان لائیں. ★ہم خیال اور غمگسار: حضوراکرم(صلی الله عليه وآله وسلّم)کو تبلیغ حق اوراشاعت اسلام میں جتنی مشکلات درپیش تھیں ان میں آپ کی ہم خیال اور غمگسار صرف حضرت خدیجہ ہی تھیں انہوں نے اپنی عقل مندی اورراحت رسانی سے حضوراکرم (صلی الله عليه وآله وسلّم)کادل جیت لیااورآپ(صلی الله عليه وآله وسلّم)حضرت خدیجہ کی وفات کے بعداکثران کا ذکر کیا کرتے تهے.وه اپنی اولاد سے بھی بڑی محبت رکھتی تھیں. ★فضیلت: حضور اکرم(صلی الله عليه وآله وسلّم)نے فرمایاکہ چارعورتوں کودنیاکی عورتوں پرفضیلت ہے. مریم بنت عمران،آسیہ زوجہ فرعون،خدیجہ بنت خویلداورفاطمہ بنت محمد(صلی الله عليه وآله وسلّم). ★اولاد : حضرت خدیجہ کے ہاں دوبیٹےاورچاربیٹیاں پیداہوئیں.بیٹوں کے نام قاسم اور عبداللہ. جبکہ بیٹیوں کے نام زینب(رض)،رقیہ(رض)،ام کلثوم(رض)اور فاطمہ(رض)ہیں. ★وفات : آپ(رضی اللہ عنہا)نے شادی کے بعد پچیس(25)سال حضور اکرم(صلی الله عليه وآله وسلّم)کے ساتھ گزارے اور نبوت کے دسویں(10)سال اور ہجرت سے تین(3)سال پہلے 65 برس کی عمر میں انتقال فرما گئیں. ★تدفین : آپ(رضی اللہ عنہا)مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان جنت المعلی میں مدفون ہوئیں.

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.