read.cash Log in
H@Hashir more from that month

اک یاد سو رہے کو اٹھاتی ہے آج بھی خود جاگتی ہے مجھ کو جگاتی ہے آج بھی یہ کیسی مطربہ ہے جو چھپ کر جہان سے دھیمے سروں میں رات کو گاتی ہے آج بھی صدیاں گزر گئیں جسے ڈوبے ہوئے یہاں اس کو صدائے شوق بلاتی ہے آج بھی جس شہر آرزو کے نشانات مٹ گئے دل کی نگاہ پھر وہیں جاتی ہے آج بھی ہونٹوں پہ بار بار زباں پھیرتا تھا جو اس قافلے کی پیاس رلاتی ہے آج بھی پربت کی چوٹیوں پہ وہ روتی ہوئی گھٹا کس حادثے پہ نیر بہاتی ہے س ایک ہی بلا جو ننگے پاؤں دوڑتی جاتی ہے آج بھی حاشر

No comments yet

Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.