لوگوں سے کچھ بھید چُھپانے پڑتے ہیں درد کے کس کس دیس ٹھکانے پڑتے ہیں سوئے رہنے میں بھی حکمت ہے پیارے جاگو تو پھر خواب سُلانے پڑتے ہیں البم کھول کے دیکھا تو احساس ہوا کیسے کیسے لوگ بھلانے پڑتے ہیں حاشر
لوگوں سے کچھ بھید چُھپانے پڑتے ہیں درد کے کس کس دیس ٹھکانے پڑتے ہیں سوئے رہنے میں بھی حکمت ہے پیارے جاگو تو پھر خواب سُلانے پڑتے ہیں البم کھول کے دیکھا تو احساس ہوا کیسے کیسے لوگ بھلانے پڑتے ہیں حاشر
Log in to join in Reading is open to everyone. Replying needs an account.
No comments yet